تبلیغِدِین
عورتوںکاتبلیغمیںجاناجائزہےتواَماںعائشہؓکیوںنہیںگئیں؟
سوال:۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ عورت باپردہ ہوکر تبلیغ کے لئے باہر نکل جائے اور حال یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ ہیں کہ عورت گھر پر بیٹھی رہے، اور جاہلیت کی طرح گھر سے باہر نہ نکلے۔ کیونکہ عورت کسی اِجتماع میں او راسی طرح جماعت کی نماز اور جمعہ کی نماز وغیرہ میں شرکت نہیں کرسکتی، اسی طرح تبلیغ میں گھر سے باہر جانا، غیرمحرَم کی آواز سننا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ نیز جو عورتیں تبلیغ پر جاتی ہیں، اگر ان کا کوئی شیرخوار بچہ ہو تو وہ اپنے گھر میں یا اگر گھر میں نہ ہو تو کسی ہمسائے کے گھر میں چھوڑ کر تبلیغ کے لئے نکلتی ہیں۔ اگر عورتوں کی تبلیغ جائز ہے تو تمام اِنسانوں کی ماں، اَماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کام کیوں چھوڑا؟ حال یہ ہے کہ ہم نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ تمام صحابہؓ کے مقابلے میں اَماںجیؓ کا علم ایک نسبت تین تھا، اور اس وقت تمام عورتوں میں جاہلیت کی تمام رُسوم موجود تھیں اور وہ دِین سے ناواقف تھیں۔
جواب:۔
جن شرائط کے ساتھ تبلیغ والوں نے عورتوں کو تبلیغ میں نکلنے کی اِجازت دی ہے، ان شرائط کے ساتھ نکلنا جائز اور دُرست ہے۔ اس لئے کہ عورتوں میں اکثر جہالت ہے، اس لئے وہ گھر میں رہتے ہوئے دِینی مسائل سے غافل رہتی ہیں، جس طرح کہ عورت کا حج وعمرہ پر جانا یا دُوسری ضروریات کے لئے جانا جائز اور صحیح ہے، اسی طرح تبلیغ کے لئے جانا، بشرطیکہ پورا حجاب ہو اور محرَم ساتھ ہو، صحیح اور جائز ہے، واللہ اعلم!

