تبلیغِدِین
نسوانیتبلیغیجماعتاورقاریمحمدطیبصاحبؒکیتحریر
سوال:۔
تبلیغی اَحباب نے چند سالوں سے نسوانی جماعتیں شروع کی ہیں، بندے کے فہم میں یہ رَوِش اور عمل دُرست نہیں معلوم ہوتا۔ معلوم ہوا ہے کہ آںمحترم اس عمل کی اِباحت اور جواز کے قائل ہیں۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں چند باتیں جو ذہن میں ہیں، تحریر کرکے خدمتِ سامی میں پیش کروں تاکہ جو موقف آںمحترم کے نزدیک اَصح ہو، اس سے مطلع اور مستفید ہوسکوں۔ حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک تحریر بھی پیشِ خدمت ہے۔ نیز جامعہ مدنیہ لاہور کا فتویٰ بھی پیشِ خدمت ہے۔ بہرحال آںمحترم کی رائے گرامی اس سلسلے میں جو ہو، اسے واضح فرماکر اِحسان فرماویں۔
جواب:۔
آپ کا خط میں نے رکھ دیا ہے، مجھے اتنی لمبی تحریریں پڑھنے کی فرصت نہیں، میرا اَب بھی وہی موقف ہے کہ جن شرائط کے ساتھ تبلیغ والے مستورات کی جماعت نکالتے ہیں، وہ نہایت ضروری ہے، اور اس میں اِن شاء اللہ خیر وبرکت ہے۔

