بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

مستورات‌پردے‌میں‌مع‌محرَم‌امر‌بالمعروف‌کرسکتی‌ہیں

سوال:۔

جس طرح مردوں پر دِین کا کام یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر لازمی ہے، اسی طرح عورتوں کے لئے بھی دِین کی محنت یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مع محرَم کے بحالتِ پردہ جائز ہے یا نہیں؟ ایک شخص بحالتِ پردہ عورتوں کو دِین کے اَحکام بیان کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

اگر مستورات کو پردے میں وعظ ونصیحت کی جائے اور وعظ ونصیحت کرنے والا اپنے دِل کی حفاظت کرے تو کوئی مضائقہ نہیں،(۱) اِن شاء اللہ اس کا اجر وثواب ہوگا۔

  1. (۱) عن أبی سعید الخدری قال: قالت النساء للنبی صلی اللہ علیہ وسلم: غلبنا علیک الرجال فاجعل لنا یوما من نفسک، فوعدھنّ یومًا لقیھنّ فیہ فوعظھنّ وأمرھنّ فکان فیما قال لھنّ: ما منکن امرأۃ تقدم ثلاثۃ من ولدھا إلّا کان لھا حجابًا من النار، فقالت امرأۃ: واثنین؟ فقال: واثنین۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۰، باب ھل یجعل للنساء یوم علٰی حدۃ فی العلم)۔