تبلیغِدِین
دعوتوتبلیغکےلئےاُصولوضوابطکےساتھنکلنےوالیجماعتکاشرعیحکم
سوال:۔
دعوت وتبلیغ کے سلسلے میں جو مستورات کی جماعتیں اپنے گھروں سے نکل کر دِین سیکھنے اور پھر عمل میں لانے کے واسطے خاص اُصول وضوابط کے تحت کام کرتی ہیں، کیا اَزرُوئے شرع جائز ہے؟ مدلل جواب سے مشرف فرمائیں۔
جواب:۔
عورتوں کا ضرورت کی بنا پر سفر کرنا خاص شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ مستورات میں دِین سے بے پروائی عام ہے، اور چونکہ پہلا مکتب ماں کی گود ہے اس لئے عورتوں کی دِین سے دُوری ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے آئندہ نسلیں بھی متأثر ہوتی ہیں، اسی بنا پر ہر دور میںمصلحینِ اُمت عورتوں کی اِصلاح کے لئے بطورِ خاص فکرمند رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ ’’بہشتی زیور‘‘ کے دیباچے میں تحریر فرماتے ہیں:
’’حقیر ناچیز اشرف علی تھانوی حنفی مظہر مدعا ہے کہ ایک مدّت سے ہندوستان کی عورتوں کے دِین کی تباہی دیکھ دیکھ کر قلب دُکھتا تھا، اور اس کے علاج کی فکر میں رہتا تھا، اور زیادہ وجہ فکر یہ تھی کہ یہ تباہی صرف ان کے دِین تک محدود نہیں تھی، بلکہ دِین سے گزر کر ان کی دُنیا تک پہنچ گئی تھی، اور ان کی ذات سے گزرکر ان کے بچوں بلکہ بہت سے آثار سے ان کے شوہروں تک اثر کرگئی تھی، اور جس رفتار سے یہ تباہی بڑھتی جاتی تھی اس کے اندازے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ اگر چند دِن اور اِصلاح نہ کی جائے تو شاید یہ مرض قریب قریب لاعلاج ہوجائے۔۔۔‘‘
حضرت حکیم الامتؒ کی اس تحریر پر قریباً ایک صدی پوری ہو رہی ہے، اور اس طویل عرصے میں مردوں اور عورتوں کی دِین سے دُوری اور غفلت وبے زاری میں جو بے پناہ اِضافہ ہوچکا ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ اس لئے مصلحینِ اُمت کو اس معاملے میں مزید فکرمندی کی ضرورت ہے کہ عورتوں کی اِصلاح کے لئے کیا تدبیریں اِختیار کی جائیں۔ حضرت حکیم الامتؒ نے اس مرضِ غفلت کا یہ علاج تجویز فرمایا تھا کہ مستورات کی دِینی تعلیم کا اِنتظام کیا جائے اور ان کو مسائلِ شرعیہ سے آگاہ کرنے کا اِہتمام کیا جائے۔ اور حضرتؒ نے ’’بہشتی زیور‘‘ لکھواکر عورتوں کے لئے ضروری مسائل کا مکمل نصاب بھی مدوّن کرادیا تھا، لیکن افسوس ہے کہ غفلت یہاں تک بڑھ گئی کہ مسلمان اس نسخۂ شفا کو اِستعمال کرنے کے بھی روادار نہیں، اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو اس علاج کی طرف متوجہ کرنے کے لئے مستورات کے حلقوں میں بھی دِین کی دعوت کو رِواج دیا جائے، چنانچہ اکابر نے اس پر طویل غور وفکر کیا، علماء وصلحاء سے مشورے ہوئے اور طویل مشاورت کے بعد اس کے لئے ایک خاص نظام تشکیل دیا گیا اور شرعی اَحکام کی پوری رعایت رکھتے ہوئے مستورات کی جماعتوں کے لئے خاص قیود اور سخت شرطیں مقرّر کی گئیں۔ مثلاً یہ کہ جو خاتون جماعت میں نکلنے کا اِرادہ کرے، اس کے ساتھ اس کا بااثر محرم ہونا چاہئے، اگر لڑکی غیرشادی شدہ ہو تو اس کے ساتھ اس کی والدہ کا ہونا بھی لازم ہے، ہر خاتون مکمل طور پر نقاب والے برقع میں ملبوس ہو، وغیرہ وغیرہ۔ ان شرعی اَحکام اور ان قیود وشرائط کی پابندی کے ساتھ مستورات کی جماعتیں نکلتی ہیں۔
اس ناکارہ نے ان قیود وشرائط کا اور اس بے لچک نظام کا خود مطالعہ بھی کیا ہے اور اپنی محرَم مستورات کے ساتھ اس راستے میں نکل کر بحمداللہ ان شرائط وقیود کی پابندی کا عملی طور پر بچشمِ خود مشاہدہ بھی کیا ہے۔ جس سے اس نظام کے بارے میں مکمل اِطمینان نصیب ہوا۔ مستورات کی جماعتوں کے نکلنے کا مفہوم عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مستورات بھی خدانخواستہ گلیوں، بازاروں کا گشت کرتی ہوں گی، حالانکہ یہ قطعاً خلافِ واقعہ ہے، جہاں مستورات کی جماعت جاتی ہے، وہاں پہلے باپردہ مکان کا اِنتخاب کیا جاتا ہے، جماعت اس مکان میں قیام کرتی ہے، ان کے محرَم کو مسجد میں ٹھہراتے ہیں، اور اس محلے کی مستورات کو ان کے مردوں کے ذریعے اس مکان میں جمع ہونے اور دِین کی باتیں سیکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ الغرض مردوں اور عورتوں کے اِختلاط کا دُور دُور تک کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔
الحمدللہ! دعوت کے اس نظام سے مستورات کے طبقے کو بہت نفع پہنچ رہا ہے، سیکڑوں خواتین اس کی برکت سے مکمل شرعی پردے کی پابند ہوگئی ہیں، اور ان کے گھروں میں دِین داری کی خاص فضا پیدا ہوگئی ہے۔ اس لئے یہ ناکارہ اس کارِ خیر کا شدّت سے حامی ہے اور تمام دِین دار اور اہلِ علم حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ وہ اپنی محرَم مستورات کے ساتھ اس راستے میں نکل کر اس کام کا عملاً مشاہدہ فرمائیں، اِن شاء اللہ وہ اس کی برکات کو واضح طور پر محسوس فرمائیں گے۔

