تبلیغِدِین
تبلیغیاجتماعاتکیدُعامیںشاملہونےکےلئےسفرکرنا
سوال:۔
تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں وعظ ہوتا ہے، اور اختتام پر بلند آواز سے دُعا ہوتی ہے، ایک دُعا مانگتا ہے اور باقی سب آمین کہتے ہیں، اس پر بڑے بڑے مصارف کرکے دُور دراز سے لوگ سفر کرکے شریک ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس کو اجتماع کا اصل مقصد سمجھتے ہیں، اگر کوئی اس میں شریک نہ ہو اور اُٹھ کر چلا جائے تو تصوّر کیا جاتا ہے کہ اس نے اجتماع میں شرکت ہی نہیں کی۔ بندہ بھی اس میں شریک ہونے کا بڑا آرزومند ہوتا ہے اور تلاوتِ قرآن سے اس کو زیادہ باعثِ ثواب سمجھتا ہے، کیا یہ نظریہ دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔
تبلیغی جماعت کے اجتماعات بڑے مفید ہوتے ہیں اور ان میں شرکت باعثِ اَجر و ثواب ہے۔(۱) اِختتامِ اِجتماع پر جو دُعا ہوتی ہے، وہ مؤثر اور رِقت انگیز ہوتی ہے، اجتماع اور اس دُعا میں شرکت کے لئے سفر باعثِ اَجر ہوگا، اِن شاء اللہ۔ قرآنِ کریم کی تلاوت اپنی جگہ بہت اہم اور باعثِ ثواب ہے،(۲) دونوں کا تقابل نہ کیا جائے، بلکہ تلاوت بھی کی جائے اور اِجتماع میں شرکت بھی کی جائے۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إن ﷲ تبارک ملائکۃ سیارۃ فضلا یبغون مجالس الذکر ۔۔۔ قال یقولون: رَبّ فیھم فلان عبد خطاء إنّما مرّ فجلس معھم قال: فیقول ولہ غفرتُ ھم القوم لَا یشقٰی بھم جلیسھم۔ (مسلم ج:۲ ص:۳۴۴، فضل مجالس الذکر)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من قرأ حرفًا من کتاب اللہ فلہ بہٖ حسنۃ والحسنۃ بعشر أمثالھا ۔۔۔إلخ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۱۹، باب ما جاء فی من قرأ حرفًا من القرآن ما لہ من الأجر)۔

