بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

کیا‌نماز‌کی‌دعوت‌اور‌سنت‌کی‌تلقین‌ہی‌تبلیغ‌ہے؟

سوال:۔

تبلیغ کے کیا معنی ہیں؟ اور اس کا دائرۂ کار کیا ہے؟ کیا نماز کی دعوت اور سنت کی تلقین ہی تبلیغ ہے؟ اگر کوئی شخص معاشرے کو سنوارنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ اقتدار کے لئے ایسا کرتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ سنت پر عمل کریں تو دُنیا قدموں میں خودبخود آجائے گی، حالانکہ مقصد اصلاحِ معاشرہ ہے اور معاشرے کو ان بُرائیوں سے بچانا مقصود ہے جو اسے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص یا جماعت کا یہ فعل کس حد تک اسلام کے مطابق ہے؟ کیا یہ تبلیغ کی مد میں شامل ہے؟

جواب:۔

معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے، افراد کی اصلاح ہوگی تو معاشرے کی اصلاح ہوگی، اور جب تک افراد کی اصلاح نہیں ہوتی، اصلاحِ معاشرہ کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ پس جو حضرات بھی افراد سازی کا کام کر رہے ہیں وہ دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔

تبلیغ کا دائرۂ کار تو پورے دِین پر حاوی ہے، مگر نماز دِین کا اوّلین ستون ہے،(۱) جب تک نماز کی دعوت نہیں چلے گی اور لوگ نماز پر نہیں آئیں گے، نہ ان میں دِین آئے گا اور نہ ان کی اصلاح ہوگی، اور ہر کام میں سنتِ نبوی کو اپنانے کی دعوت، درحقیقت پورے دِین کی دعوت ہے، کیونکہ سنت ہی دِین کی شاہراہ ہے، اس لئے بلاشبہ نماز اور سنت کی دعوت ہی دِین کی تبلیغ ہے۔

  1. (۱) عن معاذ قال: قلت یا رسول اللہ! أخبرنی بعمل یدخلی الجنۃ ۔۔۔ قال: رأس الأمر الْإسلام وعمودہ الصلاۃ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۱۴، کتاب الْإیمان، الفصل الثانی، طبع قدیمی)۔