تبلیغِدِین
تبلیغکیضرورتواہمیت
سوال:۔
میرا مسئلہ تبلیغ سے متعلق ہے، قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ لکھتا ہوں: ’’تم بہترین اُمت ہو، لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو، تم لوگ نیک کام کا حکم کرتے ہو اور بُرے کام سے منع کرتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ دُوسری آیت کا ترجمہ: ’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی ضروری ہے جو خیر کی طرف بلائے اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کرے اور بُرے کام سے منع کرے، ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔‘‘ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جو شخص کسی ناجائز کام کو ہوتے ہوئے دیکھے، اگر اس پر قدرت ہو تو اس کو ہاتھ سے بند کردے، اتنی قدرت نہ ہو تو دِل میں بُرا جانے، اور یہ ایمان کا بہت کم درجہ ہے۔‘‘ ایک دُوسری حدیث کا مفہوم ہے: ’’تمام نیک اعمال جہاد کے مقابلے میں ایک قطرہ ہیں، اور تبلیغِ دِین ایک سمندر ہے، اور جہاد، تبلیغ کے مقابلے میں پس ایک قطرہ ہے‘‘ آیت اور حدیث کی روشنی میں ان کا جواب دیں۔
جواب:۔
آپ نے صحیح لکھا ہے، دِین کی دعوت دینا، لوگوں کو نیک کاموں پر لگانا اور بُرے کاموں سے روکنا بہت بڑا عمل ہے۔(۱) ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کرے اور بقدرِ اِستطاعت ان کو نیکیوں پر لگائے اور بُرائیوں سے بچائے۔ آخری حدیث جو آپ نے لکھی ہے، یہ میری نظر سے نہیں گزری۔
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنْهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ ﵞ سورة آل عمران ١١٤۔ قال تعالٰی: ﵟ كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنْهَوۡنَ عنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ ﵞ سورة آل عمران ١١٠۔

