تعلیم
بےعلمیاوربےعملیکےوبالکاموازنہ
سوال:۔
ایک مسلمان ایسے فعل کو جانتا ہے کہ جس کے کرنے کا حکم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، اور ایک کام ایسا ہے جس کے کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، لیکن مسلمان جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان پر عمل نہیں کرتا۔ سوال کا منشا یہ ہے کہ کیا ایک ایسا شخص زیادہ گناہگار ہوگا جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلاں کام گناہ ہے کسی وجہ سے پھر بھی اس کا مرتکب ہو یا وہ شخص بہتر ہے جو گناہ والے کام کو اَنجانے میں مگر بڑے شوق وذوق کے ساتھ انجام دیتا ہو؟
جواب:۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں کن باتوں کے کرنے کا، اور کن باتوں سے باز رہنے کا حکم دیا، ان کا جاننا مستقل فرض ہے۔(۱) اور ان پر عمل کرنا مستقل فرض ہے۔ جس نے جانا ہی نہیں، اور نہ جاننے کی کوشش ہی کی، وہ دُہرا مجرم ہے۔ اور جس نے شریعت کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کی، اس نے ایک فرض ادا کرلیا۔ ایک اس کے ذمے رہا۔ الغرض! بے علمی مستقل جرم ہے اور بے عملی مستقل۔ اس لئے اس شخص کی حالت بدتر ہے جو شرعی حکم جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔
دوم یہ کہ جو شخص اللہ ورسول کے حکم کو جانتا ہوگا، وہ اگر حکم کی خلاف ورزی کرے گا تو کم از کم اپنے آپ کو مجرم اور گناہگار تو سمجھے گا، گناہ کو گناہ اور حرام کو حرام جانے گا۔ اور جو شخص جانتا ہی نہیں کہ میں حکمِ اِلٰہی کو توڑ رہا ہوں، اور اپنے جہل اور نادانی کی وجہ سے گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھے گا، نہ وہ اپنے آپ کو گناہگار اور قصوروار تصوّر کرے گا۔ ظاہر ہے کہ جو مجرم اپنے جرم کو جرم ہی نہ سمجھے، اس کی حالت اس شخص سے بدتر ہے جو اپنے آپ کو قصوروار سمجھے اور اپنے جرم کا معترف ہو۔
سوم یہ کہ جو شخص گناہ کو گناہ سمجھے، کم از کم اس کو توبہ واِستغفار کی توفیق تو ہوگی، اور ہوسکتا ہے کہ کسی وقت اس کو اپنی حالت پر ندامت ہو اور وہ گناہ سے تائب ہوجائے۔ لیکن جس جاہل کو یہی معلوم نہیں کہ وہ گناہ کر رہا ہے، وہ کبھی توبہ واِستغفار نہیں کرے گا، اور نہ اس کے بارے میں یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ اس گناہ سے باز آجائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ حالت پہلی حالت سے زیادہ خطرناک ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنے غضب سے محفوظ رکھے!
- (۱) واعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر ما یحتاج لدینہ ۔۔۔إلخ۔ وفی تبیین المحارم: لَا شک فی فریضۃ علم الفرائض الخمس وعلم الْإخلاص لأن صحۃ العمل موقوفۃ علیہ وعلم الحلال والحرام وعلم الریاء ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۲، مقدمۃ، مطلب فی فرض الکفایۃ وفرض العین، طبع ایچ ایم سعید)۔

