تعلیم
’’جسکاکوئیاُستادنہیںاُسکااُستادشیطانہے‘‘کیحیثیت
سوال:۔
’’جس کا کوئی اُستاد نہیں، اُس کا اُستاد شیطان ہے‘‘ کیا یہ بات صحیح ہے؟ قرآن وحدیث میں کہاں لکھا ہے؟ براہِ کرام حوالہ ضرور دیں تاکہ تحقیق ہوسکے۔
جواب:۔
یہ بزرگوں کا اِرشاد ہے۔ ہر کام کے سیکھنے کے لئے کسی اُستاذ اور رہنما کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے نفس کی اِصلاح اور اس کے اندر کی بیماریوں کا علاج کرنے کے لئے بھی کسی شیخ ومرشد کی ضرورت ہے، بغیر مرشد کے نفس کی اِصلاح نہیں ہوتی، بلکہ شیطان ایسے شخص کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ اس لئے بزرگوں کا یہ مقولہ صحیح ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ جو شخص کسی محقق کی رہنمائی کے بغیر ریاضت ومجاہدات شروع کردیتا ہے، شیطان اس کو بہکادیتا ہے۔

