تعلیم
مرد،عورتکےاکٹھاحجکرنےسےمخلوطتعلیمکاجوازنہیںملتا
سوال:۔
گزارش یہ ہے کہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں ایک خاتون کا انٹرویو شائع ہوا ہے، اس کے انٹرویو میں ایک سوال وجواب یہ ہے:
’’سوال:۔پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے، مگر یہاں پر اِسلامی نقطۂ نظر سے خواتین کے لئے تعلیمی ماحول کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہے، جیسے خواتین یونیورسٹی کا قیام عمل میں نہ لانا وغیرہ، اس سلسلے میں آپ کچھ اظہارِ خیال فرمائیے۔
جواب:۔
پاکستان میں ہر لحاظ سے تعلیمی ماحول خوشگوار ہے، میں دراصل اس کی حمایت میں نہیں ہوں، کیونکہ جب ہم نے خود مردوں کے شانہ بشانہ چلنا ہے تو پھر یہ علیحدگی کیوں؟ اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے ’’حج‘‘ جب اس میں خواتین علیحدہ نہیں ہوتیں تو تعلیم حاصل کرنے میں کیوں علیحدہ ہوں؟ اور ہماری قوم بڑی مہذب وشائستہ ہے، میں نہیں سمجھتی کہ خواتین کو مخلوط تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دُشواری پیش آتی ہے، جب میں نے انجینئرنگ کی تو میں واحد لڑکی تھی اور ایک ہزار لڑکے تھے، مگر مجھے کوئی دُشواری پیش نہیں آئی۔ زمانۂ طالب علمی میں طلبہ و طالبات ایک دُوسرے کے بہت معاون و مددگار ہوتے ہیں۔‘‘
حضرت! اب سوال یہ ہے کہ کیا مخلوط تعلیم حج کی طرح جائز ہے؟ اس خاتون کا مخلوط تعلیم کو حج جیسے اہم اور دِینی فریضے پر قیاس کرکے مخلوط تعلیم کو صحیح قرار دینا کیسا ہے؟ اور کیا واقعی خواتین کو مخلوط تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دُشواری پیش نہیں آتی؟ اُمید واثق ہے کہ آپ تشفی فرمائیں گے۔
جواب:۔
حج کے مقامات تو مرد و عورت کے لئے ایک ہی ہیں، اس لئے مرد و عورت دونوں کو اکٹھے مناسک ادا کرنے ہوتے ہیں، لیکن حکم وہاں بھی یہی ہے کہ عورتیں حتی الوسع حجاب کا اہتمام رکھیں، مردوں کے ساتھ اختلاط نہ کریں، اور مرد نامحرَم عورتوں کو نظر اُٹھاکر نہ دیکھیں۔(۱) پھر وہاں کے مقامات بھی مقدس، ماحول بھی مقدس اور جذبات بھی مقدس و معصوم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف بھی غالب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تعلیم گاہوں کا جیسا ماحول ہے سب کو معلوم ہے، پھر وہاں لڑکے لڑکیاں بن ٹھن کر جاتی ہیں، جذبات بھی ہیجانی ہوتے ہیں، اس لئے تعلیم گاہوں کو خانہ کعبہ اور دیگر مقاماتِ مقدسہ پر قیاس کرنا کھلی حماقت ہے۔
- (۱) والمرأۃ فی جمیع ذالک کالرجل، لأنھا مخاطبۃ کالرجال، غیر أنّھا لَا تکشف رأسھا لأنّھا عورۃ، وتکشف وجھھا لقولہ علیہ السالم: إحرام المرأۃ فی وجھھا، ولو سدلت شیئًا علٰی وجھھا وجافتہ عنہ جاز ھٰکذا روی عن عائشۃ ولأنہ بمنزلۃ الْإستظلال بالمحل، ولَا ترفع صوتھا بالتلبیۃ ولَا ترسل ولَا تسعٰی بین المسلمین، لأنہ مخلّ یستر العورۃ ولَا تستلم الحجر إذا کان ھناک جمع لأنّھا ممنوعۃ عن مماسۃ الرجال إلّا أن تجد الموضع خالیًا۔ (ھدایۃ ص:۲۵۵، کتاب الحج)۔ وفی الفتح لقولہ علیہ السلام: إحرام المرأۃ فی وجھھا ۔۔۔ وحدیث عائشۃ رضی اللہ عنھا أخرجہ أبوداوٗد وابن ماجۃ قالت: کان الرکبان یمرون بنا ونحن مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محرمات فإذا أحاذونا سدلت إحدانا جلبابھا من رأسھا علٰی وجھھا فإذا جاوزونا کشفناہ، قالوا والمستحب أن تسدل علٰی وجھھا شیئًا وتجافیہ ۔۔۔إلخ۔ (فتح القدیر ج:۲ ص:۱۹۵)۔

