تعلیم
مخلوطنظامِتعلیمکاگناہکسپرہوگا؟
سوال:۔
میں آٹھویں جماعت کا طالب علم ہوں، دُوسرے اسکولوں کی طرح ہمارے اسکول میں بھی (کو- ایجوکیشن) مخلوط نظامِ تعلیم ہے، یہ وبا کراچی میں تو بہت زیادہ ہے۔ جناب! میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ دِین کے مسائل پوچھنے میں ہم مسلمانوں کو شرم نہیں کرنی چاہئے۔ غرض یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں لڑکے اور لڑکیاں بہت جلد بالغ ہوجاتے ہیں، باقی رہی سہی کسر وی سی آر اور ٹیلی ویژن نے پوری کردی ہے۔
جنابِ والا! ہماری کلاس میں بالغ لڑکے اور لڑکیاں جب مل کر بیٹھتے ہیں تو دونوں کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ لڑکیاں اپنے دوست لڑکوں کو اس وقت اپنے گھر آنے کی دعوت دیتی ہیں جبکہ ان کے گھر والے گھر میں نہیں ہوتے۔ اسی طرح ہمارے اسکول میں مرد اور عورت اکٹھے تعلیم دیتے ہیں، جب خوبصورت عورت اُستانی پڑھانے کے لئے خوب ’’میک اَپ‘‘ کے ساتھ سامنے آتی ہے تو اس وقت بھی لڑکوں کو بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں۔ اسی طرح جب مرد اُستاد لڑکیوں کے سامنے آتے ہوں گے تو ان کے دِلوں کا کیا حال ہوگا؟ جناب! چند سالوں میں بہت عجیب و غریب واقعات پیش آئے جن کو زبان پر اور قلم کی زد میں لاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ مثلاً: ہمارے اسکول میں لڑکے لڑکیوں کے درمیان بداخلاقی کے کچھ ایسے سنگین واقعات پیش آئے کہ ان کو اسکول سے خارج کرنا پڑا، اور کتنے واقعات ایسے ہیں جو ہوتے ہیں لیکن ہر ایک دُوسرے کے عیوب پر پردہ ڈالتے ہوئے اسے منظرِ عام پر نہیں لاتا۔
۱:۔ کیا پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اس میں مخلوط نظامِ تعلیم شرعاً جائز ہے؟
۲:۔ کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرمحرَم مردوں اور عورتوں کو آپس میں مل جل کر تعلیم دینے، تعلیم حاصل کرنے یا بینکوں میں ملازم یا کسی اور ادارے میں کام کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ ایسے میں تمام عورتیں بے پردہ ہوں؟
۳:۔ کیا پاکستان میں پردے کا کوئی قانون نافذ نہیں؟
۴:۔ کیا مخلوط نظامِ تعلیم سے اسلام کا مذاق نہیں اُڑایا جارہا ہے؟
۵:۔ کیا مخلوط نظامِ تعلیم اور مخلوط ملازمتوں کا گناہ اربابِ حکومت پر ہے؟ لڑکوں پر ہے یا لڑکیوں پر ہے؟ مردوں پر ہے یا عورتوں پر ہے؟ ان میں سے کون سب سے زیادہ عذابِ الٰہی کا مستحق ہے؟
جواب:۔
آپ کا خط کسی تبصرے کا محتاج نہیں، یہ حکومت کی، والدین کی اور معاشرے کے حساس افراد کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے! اور ان لوگوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہے جو کہ مخلوط (کو- ایجوکیشن) اسکولوں اور اِداروں میں اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دِلوانا فخر سمجھتے ہیں اور ان کے بہترین مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ ان والدین کو سوچنا چاہئے کہ کہیں یہ مخلوط نظامِ تعلیم ان کے بچوں کی عزّتوں کا جنازہ نہ نکال دے اور کہیں ان کے بہترین مستقبل کے سہانے خواب ڈھیر نہ ہوجائیں۔

