تعلیم
مخلوطتعلیمکتنیعمرتکجائزہے؟
سوال:۔
دِینی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا جہاں تک پتا چلتا ہے اور آج کل کے نظامِ تعلیم سے موازنہ کرتا ہوں تو ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ الف:۔ کیا مخلوط تعلیم کا جواز شریعت میں ہے؟ اگر ہے تو کتنی عمر تک کے بچے بچیاں اکٹھے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرسکتے ہیں؟ اگر جواز شریعت میں نہیں تو پھر ذمہ دار افراد علیحدہ انتظام کیوں نہیں کرتے؟ جبکہ علمائے حق اس پر زور دیتے ہیں۔
جواب:۔
دس سال کی عمر ہونے پر بچوں کے بستر الگ کردینے کا حکم فرمایا گیا ہے۔(۱) اس سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ بچے بچیاں زیادہ سے زیادہ دس گیارہ سال کی عمر تک ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں، اس کے بعد مخلوط تعلیم نہیں ہونی چاہئے۔ دورِ جدید میں مخلوط تعلیم بے خدا تہذیب کی ایجاد کردہ بدعت ہے، جو ناگفتنی قباحتوں پر مشتمل ہے۔ معلوم نہیں ہمارے مقتدر حضرات اس نظامِ تعلیم میں کیوں تبدیلی نہیں فرماتے؟ جبکہ جداگانہ تعلیم کا مطالبہ صرف علمائے کرام ہی کا نہیں طلبہ اور طالبات کا بھی ہے۔
- (۱) عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: مُرُوا أولَادکم بالصلٰوۃ وھم أبنائُ سبع سنین، واضربوھم علیھا وھم أبنائُ عشر، وفرّقوا بینھم فی المضاجع۔ (أبوداوٗد ج:۱ ص:۷۸، ۷۹، مشکٰوۃ ص:۵۸، کتاب الصلاۃ، الفصل الثانی)۔

