بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

دِینی‌تعلیم‌کا‌تقاضا

سوال:۔

میں بارہویں جماعت پاس کرکے اب دِینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت سے یہ دریافت کرنا تھا کہ میں نیت کیا رکھوں؟ اور دِین کی تعلیم حاصل کرنے کا اصل مقصود کیا ہے؟ اور طالب علم اور اُستاذ کا تعلق کیسا ہونا چاہئے؟ طالب علم ہونے کے ناتے اُستاذ کے احترام اور ادب کے بارے میں کچھ ضروری باتیں جو دِین کا علم حاصل کرنے میں ضروری ہوتی ہیں، اگر حضرت سمجھادیں تو میرے لئے بڑی کرم نوازی ہوگی۔

جواب:۔

دِینی تعلیم سے مقصود صرف ایک ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اَحکام معلوم کرکے ان پر عمل کرنا اور رضائے الٰہی کے مطابق زندگی گزارنا، بس رضائے الٰہی کی نیت کی جائے۔(۱) علم کے آداب کے شلئے ایک رسالہ ’’تعلیم المتعلّم‘‘ اور دُوسرا رسالہ ’’آداب المتعلّمین‘‘ چھپا ہوا موجود ہے، اس کو خرید کر پڑھو اور اس کے مطابق عمل کرو۔

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تعلم علما ممّا ینبغی بہ وجہ اللہ لَا یتعلّمہ إلّا لیصیب بہ عرضا من الدنیا لم یجد عرف الجنۃ یعنی ریحا۔ (ابن ماجۃ ص:۲۲، باب إنتفاع بالعلم والعمل بہ)۔