بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

انگریزی‌سیکھنا‌جائز‌ہے‌اور‌انگریزی‌تہذیب‌سے‌بچنا‌ضروری‌ہے

سوال:۔

انگریزی زبان کو مذہب اسلام میں کیا حیثیت حاصل ہے؟ کیونکہ ہمارے والدین اس زبان سے سخت نالاں ہیں اور اس کے سیکھنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن آج کل کے دور میں انگریزی سیکھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، اس کے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے، لہٰذا آپ براہِ مہربانی ہمیں بتائیں کہ مسلمانوں کے لئے انگریزی تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟ کیونکہ یہ غیرمسلموں کی زبان ہے، کیا مذہب اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم غیرمسلموں کی زبان سیکھیں؟

جواب:۔

انگریزی تعلیم سے اگر دِین کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو حرام ہے،(۱) اگر دِین کی حفاظت کے ساتھ دُنیوی اور معاشی مقاصد کے لئے حاصل کی جائے تو مباح (جائز) ہے،(۲) اور اگر دِینی مقاصد کے لئے ہو تو کارِ ثواب ہے۔(۳) انگریزی زبان سیکھنے پر اِعتراض نہیں، لیکن کیا موجودہ نظامِ تعلیم میں دِین محفوظ رہ سکتا ہے؟ انگریزی سیکھے، انگریزی تہذیب نہ سیکھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

  1. (۱) فتاویٰ عزیزی ص:۵۹۹ طبع ایچ ایم سعید۔ أیضًا: إمداد الفتاویٰ ج:۶ ص:۱۶۲، ۱۶۳، ۱۹۳۔
  2. (۲) قال فی تبیین المحارم: وأما فرض الکفایۃ من العلم فھو کل علم لَا یستغنی عنہ فی قوام امور الدنیا کالطب والحساب والنحو واللغۃ والکلام ۔۔۔ واصول الصناعات والفلاحۃ کالحیاکۃ والسیاسۃ والحجامۃ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۴۲، مقدمۃ، مطلب فی فرض الکفایۃ وفرض العین)۔
  3. (۳) عن عمر بن الخطاب یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إنما الأعمال بالنیات وإنما لِامریء ما نویٰ ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۱ ص:۲ باب کیف کان بدء الوحی)۔