بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

کالجوں‌میں‌محبت‌کا‌کھیل‌اور‌اِسلامی‌تعلیمات

سوال۱:۔

کیا محبت کوئی حقیقت ہے؟ (میری مراد صرف وہ محبت ہے جس کا ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں بڑا چرچا ہے، اور بڑے بڑے عقل مند اسے سچ سمجھتے ہیں)۔

سوال۲:۔

کیا اسلام بھی اسے حقیقت سمجھتا ہے؟ جبکہ ہمارے معاشرے میں ان لڑکیوں کو اچھا سمجھا جاتا ہے جو شادی سے پہلے کسی مرد کا خیال تک اپنے دِل میں نہیں لاتیں۔ میں بھی اس پر یقین رکھتی ہوں اور اس کے مطابق عمل کرتی ہوں لیکن جب سے میں نے کالج میں داخلہ لیا، وہ بھی بحالتِ مجبوری تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس سلسلے میں پچھلے سات آٹھ مہینوں سے میں بہت پریشان ہوں اور ہر دُوسرے روز روتی ہوں لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟ اس سلسلے میں اسلام کیا سیدھا راستہ بتاتا ہے؟ برائے مہربانی تسلی بخش جواب دیجئے گا، میں آپ کی بہت احسان مند ہوں گی۔

جواب:۔

اسلام میں مرد و عورت کے رشتۂ محبت کی شکل نکاح تجویز کی گئی ہے،(۱) اس کے علاوہ اسلام ’’دوستی‘‘ کی اجازت نہیں دیتا۔ ہماری تعلیم گاہوں میں لڑکے لڑکیاں جس محبت کی نمائش کرتی ہیں، یہ اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ مغرب کی نقالی ہے، اور یہ ’’منقش سانپ‘‘ جس کو ڈَس لیتا ہے وہ اس کے زہر کی تلخی تادمِ آخر محسوس کرتا ہے۔ مغرب کو اسی محبت کے کھیل نے جنسی انارکی کے جہنم میں دھکیلا ہے، ہمارے نوجوانوں کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے۔

  1. (۱) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لم تر للمتحابین مثل النکاح۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۲۶۸، کتاب النکاح، طبع قدیمی)۔