تعلیم
کیامسلمانعوتجدیدعلومحاصلکرسکتیہے؟
سوال:۔
میں الحمدللہ پردہ کرتی ہوں، لیکن میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں، آپ مجھے یہ بتائیے کہ اسلام میں جدید تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی تو نہیں، جبکہ یہ تعلیم ایسی ہے کہ آدمی گھر بیٹھے کما سکتا ہے اس کو مرد کے ماحول میں ملازمت کی ضرورت نہیں پیش آئے گی، جبکہ کمپیوٹر کے سامنے وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلتا۔ یہ ایک ایسا کام ہے کہ ہم جو فالتو وقت ٹی وی وغیرہ کے آگے گزار کر گناہ حاصل کرتے ہیں اس کے یعنی (کمپیوٹر) کے سامنے بیٹھ کر ان لغویات سے بچ سکتے ہیں۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ وہ علم جو دُنیاوی عزّت حاصل کرنے کے لئے لیا جائے اس کے لئے عذاب ہے، لیکن میرے دِل میں یہ خیال ہے کہ ہم مسلمان عورتوں کو پردے میں رہتے ہوئے ایسے علوم ضرور سیکھنے چاہئیں کہ ہم کسی بھی طرح ترقی یافتہ قوموں سے پیچھے نہ رہیں۔ نیز اپنے پیروں پر ہم خود کھڑے ہوجائیں۔ نیز وہ لوگ جو پردہ دار عورتوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ دقیانوسی عورتیں ہیں ان کو کیا پتا کہ کمپیوٹر وغیرہ کیا ہوتا ہے؟ یا یہ کہ ان کو ایسی تعلیم سے کیا واسطہ؟ اُمید ہے کہ آپ میرا نظریہ سمجھ گئے ہوں گے، میرا نظریہ یہ ہے کہ ایسی تعلیم کہ عورت، مرد کے ماحول میں نکل کر کام کرنے کے بجائے گھر میں بیٹھ کر کمالے، یہ زیادہ بہتر ہے کہ نہیں؟ جو وقت اور حالات آپ دیکھ رہے ہیں، آپ کی نظر میں کیا عورت کو ایسی تعلیم حاصل کرنی چاہئے کہ وہ آپ اپنے پیروں پر خود کھڑی ہوجائے؟ یہ بتائیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ جو ہمارے نبی کا فیصلہ ہوگا وہی ہمارا اِن شاء اللہ فیصلہ ہوگا۔ اگر آپ مجھے مطمئن کردیں تو میں آپ کی بہت مشکور ہوں گی۔
جواب:۔
آپ کے خیالات ماشاء اللہ بہت صحیح ہیں، کمپیوٹر کی تعلیم ہو یا کوئی دُوسری تعلیم، اگر خواتین ان علوم کو باپردہ حاصل کریں تو کوئی حرج نہیں۔ تعلیم کے دوران یا ملازمت کے دوران نامحرَموں سے اِختلاط نہ ہو۔

