بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

میڈیکل،‌انجینئرنگ‌کالج‌میں‌تعلیم‌حاصل‌کرنا‌جبکہ‌ان‌میں‌مخلوط‌تعلیم‌ہو

سوال:۔

میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں مخلوط تعلیم کا رِواج ہے، کیا شرعاً ان اِداروں میں تعلیم حاصل کرنا جائز ہے؟ جبکہ جتنے بھی میڈیکل، انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹیاں ہیں وہاں مخلوط تعلیم ہی دی جاتی ہے، اگر جائز نہیں تو ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ کیسے بنیں گے؟ واضح رہے کہ علماء ومشائخ بھی ڈاکٹروں اور انجینئروں وغیرہ سے بوقتِ ضرورت فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ ایک صاحب اس تعلیم کے خلاف بہت واویلا کرتے ہیں، لہٰذا تفصیل سے جواب لکھئے۔

جواب:۔

میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز وغیرہ میں مخلوط تعلیم کا رِواج شرعاً جائز نہیں، سخت گناہ ومعصیت ہے۔ ذمہ دار اَفراد پر اس رِواج کو ختم کرنا ضروری ہے۔ تاہم لڑکوں اور مردوں کے لئے ان اِداروں میں مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا دُرست ہے، یعنی شرعاً گنجائش ہے:

۱:۔ اس نظام کو بدلنے کی جتنی کوشش کرسکتے ہیں، ضرور بالضرور کریں، خصوصاً دُعا تو ہر ایک کرسکتا ہے۔

۲:۔ نامحرَم لڑکیوں سے بالکل الگ تھلگ رہیں، اگر کوئی اَزخود رابطہ پیدا کرنا چاہے تو اسے سختی سے منع کردیں۔

۳:۔ حفاظتِ قلب ونظر کا اِہتمام کریں، بدنظری سے بچیں۔

۴:۔ خصوصی اِستغفار اور دُعائے حفاظت کا اِہتمام کریں۔

۵:۔ کسی صاحبِ دِل بزرگ کی مجلس میں جانے کا معمول بنائیں تاکہ صحبتِ نیکاں کے فوائد حاصل ہوں۔

۶:۔ کثرتِ اِستغفار سے کام لیں۔

اگر ان شرائط پر عمل کیا جائے تو اِن شاء اللہ کافی فوائد حاصل ہوں گے۔ جو صاحب موجودہ اِداروں میں مخلوط تعلیم کو لڑکوں کے لئے بھی مطلقاً ناجائز کہہ رہے ہیں، ان کا عمل دُرست نہیں ہے، اس طرح لوگوں میں یہ تأثر پیدا ہوگا کہ دِین دار بننے کے بعد ڈاکٹر وانجینئر وغیرہ بننا جائز نہیں رہے گا، لہٰذا لوگ دِین ہی سے بیزار ہیں ۔۔۔نعوذباللہ!۔۔۔ الغرض بے پردہ ومغرب زدہ لڑکیوں اور بے حس افسروں کی غلطی کی سزا دِین دار طلبہ کو دینا کسی طرح بھی دُرست نہیں۔ راقم الحروف ایسے دِین دار طلبہ کو جانتا ہے جو اِن اِداروں میں بھی مذکورہ شرائط کے ساتھ تعلیم حاصل کرکے ہر طرح کے گناہ واِبتلا سے محفوظ رہے ہیں۔

آخر میں، میں ذمہ دار اَفراد سے اپیل کروں گا کہ وہ اس مخلوط تعلیمی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کریں، ورنہ دُنیا وآخرت میں اللہ تعالیٰ کے غضب وعذاب سے بچ نہیں سکتے!