تعلیم
خواتینکےلئےدُنیاویتعلیمحاصلکرنےکیشرعیحیثیت
سوال:۔
ہمیں ایک مسئلہ خواتین کی تعلیم کے بارے میں درپیش ہے، اس کا جواب تفصیل کے ساتھ شرعی نقطۂ نظر سے چاہتے ہیں۔ کیونکہ یہاں علماء کی اس بارے میں متضاد رائے ہیں، بعض علمائے کرام کی رائے ہے کہ خواتین دُنیاوی تعلیم حاصل نہیں کرسکتیں، اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ خواتین لکھ نہیں سکتیں (’’لکھ‘‘ توجہ طلب ہے) جبکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ میں قرآن اور حدیثِ نبوی کی روشنی میں ثابت کرسکتا ہوں۔ لیکن اس کے برعکس دُوسرے علمائے کرام کا یہ دعویٰ ہے کہ خواتین بوقتِ ضرورت ڈاکٹر بھی بن سکتی ہیں، یعنی تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ ان دونوں بیانات کو مدنظر رکھ کر ہمیں تفصیل سے مطلع کریں، کیونکہ خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا آج کل ہمارے معاشرے کی اہم ضرورت ہے، اگر ہمارے موجودہ معاشرے کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک مرد ڈاکٹر، عورت ڈاکٹر کے مقابلے میں خواتین کا صحیح علاج نہیں کرسکتا، اس کے علاوہ بعض ایسے شعبے بھی ہیں جو خواتین کے بغیر چل نہیں سکتے۔
جنابِ محترم! ان تمام باتوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیں آگاہ کریں کہ خواتین تعلیم، نوکری کرسکتی ہیں کہ نہیں؟ ہمیں شرعی لحاظ سے مطمئن کریں۔
جواب:۔
جدید تعلیم تو بلاشبہ ضروری ہے، لیکن دِین کی حفاظت وبقا اس سے اہم تر ہے۔ آج کل یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم ہوتی ہے، اور اس تعلیم نے مرد وزَن کے اِمتیاز اور ان کی منفی خصوصیات ولوازم کو کالعدم کردیا ہے، ان تمام چیزوں کی قربانی دے کر تعلیم حاصل کرنا ایک مسلمان کی عقل میں مشکل ہی سے آسکتا ہے۔
ہاں! اگر جدید تعلیم ان قباحتوں سے معریٰ ہوتی اور اس سے دِین کا کوئی نقصان نہ ہوتا، تو غور کیا جاسکتا تھا کہ تعلیم بہتر ہے یا نہیں۔؟ واللہ اعلم!

