تعلیم
دِینیتعلیمکیراہمیںمشکلاتنیزدِینیاوردُنیاویتعلیم
سوال۱:۔
میں نے بچپن سے آج تک دُنیاوی حاصل کی ہے، اب میں دِین کی تعلیم کی طرف آنا چاہتا ہوں، کیا مجھے کسی قسم کی مشکلات پیش آئیں گی؟
سوال۲:۔
میرے والدین کی خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں، انہوں نے میری تعلیم پر بڑا خرچہ کیا ہے، اگر میں ڈاکٹر نہیں بنتا ہوں تو انہیں بہت افسوس اور دُکھ ہوگا، کیا انہیں دُکھ میں مبتلا کرکے عالمِ دِین بننا جائز ہے؟
سوال۳:۔
اگر میں ان کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر بنوں اور اپنی جوانی کو ڈاکٹری کی تعلیم میں صَرف کروں تو اپنے دِین کو قائم رکھ سکوں گا؟ میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں مخلوط تعلیم اور دُوسری بُرائیاں ہیں، کیا ان کا گناہ اور وبال بھی میرے سر ہوگا؟
سوال۴:۔
روزِ قیامت ایک عالمِ دِین زیادہ مستحقِ اجر و ثواب ہوگا یا وہ شخص جس نے ہر قسم کی مشکلات اور نامساعد حالات میں اپنے دِین کو باقی رکھا؟
سوال۵:۔
کیا اس نیت سے یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات میں پڑھنا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لینا کہ بعد میں پروفیسر بنوں گا، اچھی تنخواہ اور مراعات حاصل کروں گا ۔۔۔ ۔۔ دِین بھی ہوگا اور دُنیا بھی، جائز ہے؟ کیا مدرسے کی تعلیم اور یونیورسٹی کی تعلیم میں کوئی فرق ہے؟
جواب۱:۔
آپ کو مشکلات کا پیش آنا تو لازم ہے۔
جواب۲:۔
اگر آپ ڈاکٹر بن کر دِین پر قائم رہ سکیں تو والدین کی خوشنودی کے لئے ڈاکٹر بن جائیں۔
جواب۳:۔
بُرائیوں کا گناہ تو یقینا ہوگا، اور یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ دِین کو قائم رکھ سکیں گے یا نہیں؟ اگر اہلِ دِین کے ساتھ تعلق جڑا رہا تو توقع ہے کہ دِین قائم رہ سکے گا۔
جواب۴:۔
ظاہر ہے کہ عالمِ حقانی کا اجر بڑھا ہوا ہوگا۔(۱)
جواب۵:۔
یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرلینا تو دُنیا ہی کے لئے ہوگا، آپ اسی دُنیا کو دِین بناسکتے ہیں تو آپ کی ہمت ہے، اور مدرسہ کی تعلیم دِین کے لئے ہے، اگر کوئی اس کو دُنیا بنالے تو یہ اس کی بے سمجھی ہے۔(۲)
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ: الأنبیاء ثم العلماء ثم الشھداء۔ (ابن ماجۃ، باب ذکر الشفاعۃ ص:۳۲۰)۔ أیضًا: وعن أبی أمامۃ الباھلی قال: ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجلان أحدھما عابد والآخر عالم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فضل العالم علی العابد کفضلی علٰی أدناکم ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۴)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تعلّم علمًا ممّا ینبغی بہ وجہ اللہ لَا یتعلّمہ إلّا لیصیب بہ عرضًا من الدنیا لم یجد عون الجنّۃ یوم القیامۃ أی ریحھا۔ (ابن ماجۃ ص:۲۲، باب إنتفاع بالعلم والعمل بہ)۔

