بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

بیوی‌کی‌تعلیم‌وتادیب‌میں‌کوتاہی‌کرنا

سوال:۔

میں نے ’’معارف القرآن‘‘ میں ایک جگہ پڑھا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو کیا جائے گا جس کے بال بچے، بیوی وغیرہ دِینی تعلیم سے بے خبر ہوں۔ میں ایک غریب آدمی ہوں، قرآن شریف کی تعلیم ایک دُوسرے گاؤں میں دیتا ہوں، اور وہ گاؤں میرے گاؤں سے بہت دُور ہے، دس دنوں کے بعد اپنے گھر آتا ہوں، دو دِنوں کے بعد پھر چلا جاتا ہوں۔ میری بیوی نماز بھی نہیں پڑھتی ہے، اور قرآن شریف کی تعلیم سے بھی محروم ہے۔ میں نماز پڑھنے کو کہتا ہوں تو پتا نہیں کیا کیا عذر بیان کرتی ہے۔ باقی قرآن شریف میں نے اس کو نہیں پڑھایا ہے، کیونکہ اگر گھر میں بیٹھ کر تعلیم دیتا ہوں تو گزارہ کہاں سے کریں؟ آج کل گھر کے خرچ بہت بڑھ گئے ہیں، آدمی تنخواہ کے سوا گھر کا خرچ کہاں سے لائے؟ اور اپنے گاؤں میں سب غریب لوگ ہیں، وہ تنخواہ نہیں دے سکتے ہیں، کیا میری بیوی کی بے دِینی کا یا نماز نہ پڑھنے کا مجھ پر عذاب ہوگا؟

جواب:۔

اگر ان کی تعلیم وتادیب میں کوتاہی کرتے ہیں تو آپ پر بھی ذمہ داری آئے گی۔(۱)

  1. (۱)ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِيكُمۡ نَارٗاﵞ سورة التحريم ٦۔ وفی التفسیر: ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡﵞ بترک المعاصی وفعل الطاعات ﵟ وَأَهۡلِيكُمۡﵞ بأن تأخذوھم بما تأخذون بہ أنفسکم۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۵۰۶، طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔