بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

برطانیہ‌میں‌مسلم‌بچوں‌کی‌تعلیم‌وتربیت

سوال:۔

یورپی ممالک میں نئی نسل اسلام سے دُور ہوتی جارہی ہے، ان کی تعلیم وتربیت کے لئے کیا لائحہ عمل اِختیار کیا جائے؟

جواب:۔

یورپی ممالک میں تعلیم لازمی اور مفت ہونے کی وجہ سے بہت مسائل جنم لے رہے ہیں، مسلمان بچوں کو ان اسکولوں میں لازمی تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے، اسی وجہ سے نئی نسل ایک طرف اسلام سے دُور ہو رہی ہے، دُوسری طرف ان میں ایسی اخلاقی بُرائیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس لئے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، سب سے بہتر تو یہ ہے کہ مسلمان ان ممالک میں اپنے اسکول قائم کریں، اور ان اسکولوں میں بہترین عصری علوم کا اِنتظام کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ ان اسکولوں میں دِینی تعلیم بھی ضرورت کے مطابق دی جائے۔ امریکا اور ساؤتھ افریقہ میں اس قسم کے بہترین اسکول قائم کئے گئے ہیں، لیکن انگلینڈ میں اس کی کمی شدّت سے محسوس کی جارہی ہے، دراصل انگلینڈ میں تعلیم فری ہے، اور لوگ اس فری تعلیم سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں، مسلمانوں کے اپنے اسکولوں میں لازمی طور پر فیس ادا کرنی ہوگی۔

بہرحال اگر اپنے اسکول قائم نہ کئے جاسکیں تو دُوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان لازمی طور پر اپنے بچوں کو اسکول کے بعد مساجد میں بھیجیں اور ان مساجد میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ ضروریاتِ دِین کی تعلیم دی جائے، اس طرح مسلمان بچے اسکول کی تعلیم سے لادِینی اثرات قبول نہیں کریں گے۔ اسی طرح والدین کو چاہئے کہ وہ خود جب نماز کے لئے آئیں تو بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئیں، اسی طرح گھر میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں وقتاً فوقتاً بچوں کو آگاہ کیا جائے۔ انگریزی میں اسلام سے متعلق کافی لٹریچر شائع ہوگیا ہے، وہ ان کو مطالعے کے لئے دیں، بچوں کے ذہنوں میں اسلام سے محبت اور وابستگی پیدا کریں، اس طرح نئی نسل میں اسلامی شعور بیدار ہوگا اور قوم اور نئی نسل گمراہ نہیں ہوگی۔