بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

کونسا‌علم‌حاصل‌کرنا‌ضروری‌ہے؟‌اور‌کتنا‌حاصل‌کرنا‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

علم حاصل کرو اگرچہ چین میں ملے۔ ’’علم حاصل کرو‘‘ کا فقرہ، کیا علمِ دِین کے لئے کہا گیا ہے؟ کیا یہ دُنیا کے تمام علوم کے لئے کہا گیا ہے؟ کیا مرد اور عورتوں پر دُنیوی علوم حاصل کرنا فرض ہے؟

جواب:۔

اوّل تو یہ حدیث ہی موضوع اور باطل ہے۔(۱) علاوہ ازیں انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا موضوع دُنیا کا علم ہے ہی نہیں، وہ تو آخرت کی دعوت دیتے ہیں، اور انسانیت کو ان عقائد و اعمال اور اخلاق و معاملات کی تعلیم دیتے ہیں جن سے ان کی آخرت بگڑے نہیں، بلکہ سنور جائے۔ اس لئے جو علوم آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’’علم حاصل کرو‘‘ میں داخل نہیں، ان کا حاصل کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ اور ضروری ہے یا غیر ضروری؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔

دِینی علم بقدرِ ضرورت حاصل کرنا تو سب پر فرض ہے،(۲) اور دُنیاوی علوم کسبِ معاش کے لئے ہیں، اور کسبِ معاش عورتوں کے ذمہ نہیں، بلکہ مردوں کے ذمہ ہے۔(۳) ان کی تعلیم اتنی کافی ہے کہ دِینی رسائل پڑھ سکیں اور لکھ پڑھ سکیں۔ باقی سب زائد ہے۔

  1. (۱) أیضًا۔
  2. (۲) عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۴، کتاب العلم)۔ وفی المرقاۃ: طلب العلم أی الشرعی فریضۃ أی مفروض فرض عین علٰی کل مسلم ۔۔۔ ومسلمۃ کما فی روایۃ، قال الشراح المراد بالعلم ما لَا مندوحۃ للعبد من تعلمہ کمعرفۃ الصانع والعلم بوحدانیتہ ونبوۃ رسولہ وکیفیۃ الصلاۃ فإن تعلّمہ فرض عین ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ ج:۱ ص:۲۳۳)۔ أیضًا: اعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر ما یحتاج لدینہ۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۴۲، طبع سعید)۔
  3. (۳) ﵟ وَعَلَى ٱلۡمَوۡلُودِ لَهُۥ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِﵞ سورة البقرة ٢٣٣۔ تجب علی الرجل نفقۃ إمرأتہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۴۴)۔ نفقۃ الأولَاد الصغار علی الأب لَا یشارکہ فیھا أحد کذا فی الجوھرۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۶۰)۔