بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

’’علم‌حاصل‌کرو،‌چاہے‌اس‌کے‌لئے‌چین‌ہی‌کیوں‌نہ‌جانا‌پڑے‘‘‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

’’علم حاصل کرو، چاہے اس کے لئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘ اور ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے‘‘ میرے ماموں کہتے ہیں کہ اس علم سے مراد دُنیاوی اور دِینی دونوں علم ہیں، کیونکہ اس وقت چین میں اِسلامی تعلیم نہیں تھی، یا وہاں پر اِسلام ہی نہیں تھا۔

جواب:۔

انبیائے کرام علیہم السلام دُنیا کمانے کی ترغیب دینے کے لئے نہیں آتے، بلکہ دُنیا میں گلے گلے تک پھنسے ہوئے لوگوں کو آخرت کی ترغیب دینے اور آخرت کا یقین پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں۔ چین والی حدیث ہی غلط ہے۔(۱)

  1. (۱) حدثنا طریف بن سلمان أبو عاتکۃ قال: سمعت أنس بن مالک عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اطلبوا العلم ولو بالصین ۔۔۔ قال ابن حیان: باطل لَا أصل لہ، والحسن بن عطیۃ ضعیف، وأبو عاتکۃ منکر الحدیث۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ ج:۱ ص:۱۹۳)۔