تعلیم
علمکےحصولکےلئےچینجانےکیروایت
سوال:۔
اکثر اخبارات، رسائل، کتب، تقاریر وغیرہ میں علم کے عنوان پر جب بھی بات چلتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تمہیں تحصیلِ علم کے لئے چین بھی جانا پڑے تو جاؤ‘‘ آپ ذرا بتائیے کہ آیا یہ حدیث کتبِ احادیث میں سے کسی میں موجود ہے یا نہیں؟
جواب:۔
یہ حدیث علامہ سیوطیؒ نے جامع صغیر ج:۴ ص:۴۴ میں ابنِ عبدالبرؒ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ بعض حضرات نے اس کو من گھڑت (موضوع) کہا ہے۔(۱) بہرحال یہ حدیث کسی درجے میں بھی لائقِ اعتبار ہو تو ’’علم‘‘ سے مراد دِینی علم ہے،(۲) اور ’’چین‘‘ کا لفظ انتہائی سفر کے لئے ہے، کیونکہ چین اس وقت عربوں کے لئے بعید ترین ملک تھا۔
- (۱) (ابن عدی) حدثنا محمد بن الحسن بن قتیبۃ حدثنا عباس بن إسماعیل حدثنا الحسن بن عطیۃ الکوفی عن أبی عاتکۃ عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اطلبوا العلم ولو بالصین فإن طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم۔ (العقیلی) حدثنا جعفر بن محمد الزعفرانی حدثنا أحمد بن أبی شریح الرازی حدثنا حماد بن خالد الخیاط حدثنا طریف بن سلمان أبو عاتکۃ قال: سمعت أنس بن مالک عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اطلبوا العلم ولو بالصین فإن طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم۔ قال ابن حیان: باطل لَا أصل لہ، والحسن بن عطیۃ ضعیف، وأبو عاتکۃ منکر الحدیث۔ (قلت) الحسن روی عنہ البخاری فی التاریخ وأبو زرعۃ وروی لہ الترمذی وضعفہ الأزدی والحدیث أخرجہ البیھقی فی شعب الْإیمان وابن عبدالبر فی کتاب العلم۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ ج:۱ ص:۱۹۳، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
- (۲) عن عبداللہ بن عمرو بن العاص ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: العلم ثلاثۃ، وما سِویٰ ذالک فھو فضل، آیۃٌ محکمۃ، أو سُنَّۃ قائمۃٌ، أو فریضۃ عادلۃٌ۔ (أبوداوٗد ج:۲ ص:۴۳، کتاب الفرائض، باب ما جاء فی تعلم الفرائض)۔

