بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیم

صنفِ‌نازک‌اور‌مغربی‌تعلیم‌کی‌تباہ‌کاریاں

سوال:۔

کیا خواتین کو مروّجہ عصری علوم اور مغربی تعلیم سے آراستہ کرنا شرعاً ناجائز ہے؟ اس کے کیا کیا مفاسد ہیں؟ تفصیل سے روشنی ڈالیں۔

جواب:۔

مغربی تہذیب اور اس کے طرزِ تعلیم نے صنفِ نازک کو اقتصادی، معاشرتی، سماجی اور اخلاقی میدان میں کس طرح پامال کیا ہے، اس کے ناموس اور تقدس کو حرص و آز کی قربان گاہ پر کس طرح بھینٹ چڑھایا ہے، اس کی معصومیت، حیا اور شرافت کو مغربیت کی فسوں کاری سے کس طرح شکار کیا ہے۔ اس کے وقار، اس کی عزّت، اس کی اقدار اور وفادارانہ روایات کو دورِ حاضر نے کس طرح کچل کر رکھ دیا ہے، اس کے احساسات، جذبات اور تصوّرات کو اضطراب، بے چینی اور بے اطمینانی کے کس اندھیرے غار میں ڈال دیاہے۔ ان سوالات کے جوابات آج اخبار کے صفحات میں ’’ہر دیکھنے والی نظر‘‘ کے سامنے بکھرے پڑے ہیں، لیکن مغربی افیون کا نشہ، پڑھنے والوں کو ان پر غور و فکر کی مہلت نہیں دیتا۔ ہمیں لکھتے پڑھتے اور کہتے سنتے بھی شرم آتی ہے کہ مغربی تاجروں نے ’’نصف انسانیت‘‘ کو تعلیم و تہذیب، فیشن اور کلچر، مساوات اور حقوق کے پُرفریب نعروں سے تجارتی منڈی میں فروختنی سامان کی حیثیت دے ڈالی ہے۔ زندگی کا کون سا شعبہ ہے جس میں ’’عورت‘‘ کے نام، نغمہ و کلام، شکل و صورت اور تصویر اور فوٹو کو فروغِ تجارت کا ذریعہ نہیں بنایا ہے۔ عورت کے فطری فرائض بدستور اس کے ذمہ ہیں، خانہ داری اور نسلِ انسانی کی پروَرِش کا پورا بوجھ وہ اب بھی اُٹھاتی ہے، لیکن ظلم پیشہ، کسل پسند اور آرام طلب ’’مرد‘‘ نے ’’وزارت‘‘ سے لے کر ہسپتال کے نرسنگ سسٹم تک زندگی کے ایک ایک شعبے کا بوجھ بھی اس مظلوم اور ناتواں کے نحیف کندھوں پر ڈال دیا ہے۔

مرد و زَن کی الگ الگ فطری تخلیق، الگ الگ جسمانی ساخت، الگ الگ ذہنی صلاحیت، الگ الگ جذبات و احساسات، الگ الگ طرزِ نشست و برخاست کا فطری تقاضا یہ تھا کہ ان دونوں کے فطری فرائض بھی الگ الگ ہوتے، دونوں کا میدانِ عمل ہی الگ الگ ہوتا، دونوں کے حقوق و واجبات بھی الگ الگ ہوتے، دونوں کی زندگی کا دائرۂ کار بھی الگ الگ ہوتا، نیز جس طرح عورت اپنے فطری فرائض بجا لانے پر بہرحال مجبور ہے، اسی طرح عقل و انصاف کا تقاضا اور نواعیسِ فطرت کی اپیل ہے کہ وہ مرد اپنے فطری فرائض کے میدان میں مکمل طور پر خود مصروف تگ و تاز ہونے کا بار خود اُٹھائے اور صنفِ نازک کو ’’اندرونِ خانہ‘‘ سے باہر نکال کر ’’بیرونِ خانہ‘‘ رُسوا نہ کرے۔

مرد اور عورت بلاشبہ انسانی گاڑی کے دو پہئے ہیں، لیکن یہ گاڑی اپنی فطری رفتار کے ساتھ اسی وقت چل سکے گی، جبکہ ان دونوں پہیوں کو اس گاڑی کے دونوں جانب فٹ کیا جائے، گھر کے اندر عورت ہو اور گھر سے باہر مرد ہو، لیکن اگر ان دونوں کو ایک ہی جانب فٹ کردیا جائے یا بٹوارا کرلیا جائے کہ مرد بھی نصف گھر سے باہر کے فرائض انجام دے اور نصف گھر کے اندر کے، اسی طرح عورت کی زندگی کو اندر اور باہر کے فرائض کی دو عملی میں بانٹ دیا جائے تو یا تو یہ گاڑی سرے سے چلے گی ہی نہیں یا اگر چلے بھی تو فطری رفتار سے نہیں چلے گی، بلکہ اس کی رفتار میں کجی، ہچکولے، بے اطمینانی اور سر دردی کا اتنا عظیم طوفان ہوگا کہ انسانی زندگی نمونہ جنت نہیں بلکہ سراپا جہنم زار بن کر رہ جائے گی۔

آج مغرب کے ارزاں فروشوں نے صنفِ نازک کے گراں مایہ اقدار کو جن سستے داموں بیچ کر زندگی کے جہنم کا ایندھن خریدا ہے، اس سے مشرق و مغرب بیک زبان لرزہ براندام اور نالہ کناں ہیں، اس نے ’’صنفِ ضعیف‘‘ کے طبعی میدانِ عمل پر اس شدّت سے قہقہہ لگایا کہ عورت کو مجبوراً اپنا فطری مقام چھوڑ کر سست وجود اور کسل پسند ’’مرد‘‘ کے میدانِ عمل میں آنا پڑا، اور قانونِ فطرت نے جو ذمہ داری صرف اور صرف مرد پر ڈالی تھی، اس مظلوم کو مردوں کے دوش بدوش اس کا نصف بار اُٹھانا پڑا۔ اس جذبۂ وفاداری کے تحت جب عورت گھر سے نکل کر ’’بیرونِ خانہ زندگی‘‘ میں گامزن ہوئی تو قدم قدم پر اس کی نسوانیت کا مذاق اُڑایا گیا، سب سے پہلے اس کے سامنے ’’تعلیم‘‘ کے خوش کن عنوان سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے دروازے کھولے گئے اور معصوم بچیوں کو آزادانہ طور پر لڑکوں کی صفوں میں بیٹھ کر نئی طرزِ زندگی سیکھنے پر مجبور کیا گیا، مخلوط تعلیم نے جس کا رواج اگرچہ کئی جگہ بند کردیا گیا ہے، لیکن ابھی تک اس کی بُرائی اور نفرت سے کما حقہ واقفیت کی نعمت سے لوگ آشنا نہیں ہوسکے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے اخلاق، عادات، اطوار اور جذبات میں جو زہر گھولا ہے اس کے لئے شواہد اور دلائل پیش کرنا غیرضروری ہے، اخبار کے صفحات اور عدالتوں کے ریمارکس اس پر شاہد ہیں۔ اس مرحلے میں (اِلَّا ماشاء اللہ) جو نسوانیت کی مٹی پلید ہوئی اور ہو رہی ہے، اس پر انسانیت بشرطیکہ وہ کسی میں موجود بھی ہو، سر پیٹ کر رہ جاتی ہے اور حیاء و عصمت کی دیوی، اپنا دامن چاک کرلیتی ہے، اس مرحلے میں کتنی ہی دوشیزاؤں کو اپنے عزّت مآب والدین سے باغی ہوجانا پڑا، کتنے ہی باعزّت خاندانوں کو ذِلت اور رُسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈُوب جانا پڑا اور کتنے ہی گھرانوں کو اپنی شرافت اور برتری کی معراج سے دنایت اور پستی کے تہ خانوں میں گم ہوجانا پڑا۔

خدا خدا کرکے تعلیم ختم ہوئی، اب ملازمت کی تلاش کا مرحلہ پیش آیا، اس مرحلے میں کن کن لوگوں سے ملاقاتیں کرنا پڑیں، کن کن حیاسوز محفلوں میں حاضری دینا پڑی، کن کن شریفوں کے خندہ زیر لب کا نشانہ بننا پڑا، ایک طویل داستان ہے جو ہر اس خاتون کے سر سے گزرتی ہے جسے یہ مرحلہ پیش آیا ہو، مشرقی مذاق میں اس مرحلے کی تعبیر یوں ہے:

کرکے بی اے اب رشیدہ ڈھونڈتی ہے نوکری

لینے کے دینے پڑے اس گھر کی ویرانی بھی دیکھ

روزنامہ ’’کوہستان‘‘ لاہور ۲۳؍ستمبر ۱۹۶۶ء کی اشاعت (خواتین کا اخبار) میں ایک قابلِ احترام خاتون کا ایک مضمون اسی موضوع پر نظر سے گزرا، جس میں مذکورہ بالا مرحلے میں صنفِ نازک کی لاعلاج پریشانیوں کی ہلکی سی جھلک پیش کی گئی ہے مجھے دُوسروں کی خبر نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ اپنی ایک بہن کی عجیب و غریب پریشانیٔ احوال کو پڑھ کر دِل ڈُوب گیا، گردن جھک گئی اور دِماغ میں نفسیاتی بحران کی کیفیت طاری ہوگئی۔ میں سوچنے لگا کہ یا اللہ! شاطر فرنگ کتنا بڑا ظالم تھا، جس نے مشرقی خاتون کو ’’جنت خانہ‘‘ سے باہر نکال کر اس کے تمام تر ضعف اور فطری ناتوانی کے باوجود اسے بے اطمینانی و بے چینی کے جہنم میں دھکیل دیا۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنی بہن کی دردناک کہانی کے چند اجزاء یہاں نقل کردوں، محترمہ لکھتی ہیں:

’’جی چاہتا ہے اپنی ڈگریوں کو اُٹھاکر بھاڑ میں جھونک دوں، سیما نے اپنی ایم اے تک کی ڈگریاں میز پر زور سے پٹخ دِیں اور کرسی پر گرکر پیشانی کا پسینہ پوچھنے لگی، کیوں خیر تو ہے؟ میں نے حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھا، آج ڈگریوں کی کم بختی کیوں آگئی؟ انہیں حاصل کرنے کے لئے تو تم نے دن رات ایک کردئیے، تمہارے چہرے پر کھنڈی ہوئی یہ زردی اور ہمیشہ کی سردردی ان ڈگریوں ہی نے تو دی ہے۔‘‘

ان ڈگریوں کے حاصل کرنے پر اسے مجبوراً دن رات ایک کردینا پڑا تھا، اور جس کے نتیجے میں چہرے کی زردی اور دائمی سردردی میں وہ بیچاری مبتلا ہوکر رہ گئی تھی۔ اس سوال کا جواب اس کی طرف سے کیا دیا گیا؟ ذرا اسے پڑھئے اور صنفِ نازک کی ’’غیرفطری پریشانیوں‘‘ کا اندازہ کیجئے! محترمہ لکھتی ہیں کہ:

’’یہ سوال سن کر وہ رو دینے کے انداز میں کہنے لگی: یہی تو دُکھ کی بات ہے، ان ڈگریوں کو حاصل کرنے کا مقصد اگر فریم کرواکے دیوار پر آویزاں کرنا ہے تو پھر ٹھیک ہے، بڑی سے بڑی ڈگری لو، اعلیٰ سے اعلیٰ فریم میں لگاؤ اور گھروں میں لٹکاؤ، پر اگر کوئی غریب چاہے کہ اس کی محنت کا ثمر مل جائے، تو مشکل ہے، ڈگریوں کو ماتھے پر سجاکر در، در کی خاک چھانو، کالج اور دفتروں کی چوکھٹیں گھساؤ، مگر سولہ سال کی محنت کے عوض ملی ہوئی یہ سند تمہیں کہیں نوکری نہ دِلاسکے گی۔‘‘

یہ تو اس تعلیم کا صرف ایک پہلو ہے، اس کا دُوسرا پہلو اس سے بڑھ کر سنجیدہ و غور و فکر کا مستحق ہے، اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے:

’’اور پھر تم جانتی ہو، وہ سنجیدگی سے بولی: یہ وہ زمانہ نہیں جس میں معمولی پڑھی لکھی گھر گرہستی کو سمجھنے والی عورت ہی آورش سمجھی جاتی ہو۔ آج عظمت اور بڑائی کا معیار بدل گیا ہے، کسی بھی اخبار کے اشتہاروں کے کالم میں دیکھ لو۔ ضرورتِ رشتہ کے عنوان سے دئیے گئے اشتہار میں لیڈی ڈاکٹر اور پروفیسر کو کس طرح ترجیح دی گئی ہوتی ہے۔‘‘

گویا اس تعلیم نے معاشرت و اقتصاد ہی کو نہیں سماج کو بھی متأثر کیا ہے، ذہنیت بدل کر رکھ دی، مزاج بگاڑ دئیے، اقدار کو مجروح کردیا، کل تک جن چیزوں کو سماجی تعلقات اور رشتۂ مناکحت کے لئے معیار قرار دیا جاتا تھا، اور وہ واقعتا معیار تھیں بھی، اس تعلیمی ہیضے نے ان تمام پر خطِ تنسیخ کھینچ دیا، شرافت اور بلندی کا معیار، شستہ اخلاقی، پاکیزہ عادات، عفت و عصمت، اقدار و اطوار نہیں رہے، بلکہ صرف ایک معیار باقی رہ گیا ہے، یعنی وہ لیڈی ڈاکٹر؟ یا پروفیسر؟ کس منصب پر فائز ہے اور ماہوار کتنے روپے کماتی ہے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ! ممکن ہے جن لوگوں کو ان تلخیوں سے دوچار نہ ہونا پڑا ہو، انہیں یہ ’’داستانِ درد‘‘ بے وزن معلوم ہو، لیکن جن کے سر سے یہ گزری ہے ان کی شہادت کو آخر کیسے نظرانداز کردیا جائے، تعلیمِ جدید کے قصیدہ خوانوں کو اپنی دردمند بیٹی اور بہن کا یہ بیان پورے غور و فکر سے پڑھ کر اپنے موقف پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی، محترمہ لکھتی ہیں:

’’برسوں اسی میدان میں دھکے کھانے کے بعد جب زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سولہ برس کی محنت کا ثمرہ صرف کاغذ کا ایک پرزہ ہے جو زندگی کے لق و دق صحراء میں کسی وقعت کا حامل نہیں، یہ تو کسی کام بھی نہیں آسکتا، پھر جی چاہتا ہے، کاش! ڈھنگ سے برتن مانجھنے ہی سیکھ لئے ہوتے یا ہاتھ میں کوئی اور ہنر ہوتا کہ آج بے بسی اور محتاجی کا احساس یوں شدّت سے کچوکے نہ لگاتا۔‘‘

اس پر بس نہیں اس تعلیم نے صنفِ نازک کے جذبات پر جو گہرا زخم کیا ہے اسے معلوم کرنے کے لئے بدلتی ہوئی معاشرت پر بالاخانوں میں بیٹھ کر فخر کرنے والوں کو اپنی بہن کا یہ پیغام سن لینا چاہئے، اس پیغام میں اگر تلخی کی جھلک اور بڑے کڑوے کسیلے لہجے کی چبھن محسوس ہو تو انہیں سوچنا چاہئے کہ یہ کس کی آواز ہے، محترمہ لکھتی ہیں:

’’میں پوچھتی ہوں، کہاں ہیں وہ لوگ جو گھر کی چاردیواری میں مستور، معمولی سی تعلیم و تربیت حاصل کرنے والی عورت کو آورش جان کر اسے احساسات کے سب سے بلند استھان پر بٹھالیا کرتے تھے، آج زندگی کی اقدار ہی بدل گئیں، غریبوں کو چاہئے کہ اپنی لڑکیوں کو نرسیں بنوایا کریں یا پھر پرائمری اسکولوں میں تیس روپے ماہوار پر اُستانیاں لگادیا کریں، اس سے آگے وہ کچھ نہیں کرسکتیں، کیونکہ شروع میں ہی ان کا ہر احساس مٹادیا جائے، یا شعور ہونے سے پہلے ہی ان کا شعور ختم کردیا جائے تاکہ وہ زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتی ہوئی پاگل نہ ہوجائیں، کاغذ کے پرزوں کو سینے سے لگا لگاکر ان کی حسیات چوٹ نہ کھا جائیں۔‘‘

اس تعلیم کے فضائل کی گنتی میں سرِ فہرست معیارِ زندگی کے بلند کرنے کا نام لیا جاتا ہے اور بڑے بڑے بے سروپا دلائل سے سمجھایا جاتا ہے کہ جب تک تعلیم عام نہ ہوگی زندگی کا معیار بلند نہیں ہوسکتا۔ اگر معیارِ زندگی سے چند بڑے لوگوں کا معیارِ زندگی مراد ہے تو اور بات ہے، ورنہ اگر مجموعی زندگی کا اوسط مراد ہے تو معاف کیجئے! یہ دلیل واقعات سے کوئی میل نہیں کھاتی۔ اس اُلٹ تعلیم سے معیارِ زندگی کے بلند کرنے کی اُمید باندھ لینا خواب خیالی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ آخر امریکا بہادر سے زیادہ تعلیم کہاں عام ہوگی؟ اور معیارِ زندگی کہاں بلند ہوگا؟ لیکن امریکی صدر آنجہانی کینیڈی نے اعتراف کیا تھا کہ امریکا میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں پیٹ بھر کر دو دفعہ کھانا میسر نہیں۔ یہی معیار زندگی کا ہوّا ہے جس کے لئے معصوم صنفِ نازک کو گوناگوں پیچیدگیوں میں جکڑ دیا گیا ہے حالانکہ خود ’’معیارِ زندگی‘‘ کے لئے کسی کے پاس کوئی ’’معیار‘‘ نہیں ہے کہ آخر یہ ہے کیا بلا؟ اس کے حدود کیا ہیں؟ یہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں جاکر ختم ہونے کا نام لیتی ہے؟ محترمہ نے کیا خوب لکھا ہے:

’’سیما بے بسی سے ہنس دی اور بڑے سپاٹ لہجے میں بولی: لوگ پوچھتے ہیں تمہیں معیارِ زندگی بلند کرنا ہے؟ انہیں کیا بتاؤں کہ یہاں تو زندگی کا سرے سے کوئی معیار ہی نہیں ہے، اسے اُونچا کیا کریں؟ ہم تو چاہتے ہیں زندگی اگر زندگی بن کر گزر جائے تو غنیمت ہے۔‘‘

اور یہ اس ’’تعلیمِ جدید‘‘ کے ایک مرحلے کا ذکر ہے، یعنی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش، اس مرحلے کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ سب تو نہیں لیکن ’’بڑے لوگ‘‘ اپنی بیٹیوں کو یہاں سے مغرب کی یونیورسٹیوں میں بھیج دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، مشرقی عورت مغربی ماحول میں جاکر تعلیم کے ساتھ کیا کیا سیکھ آتی ہوگی؟ اس کے لئے وہیں کی معاشرت پر نظر کرلینا ہی کافی سبق آموز ہے، اور یہاں آکر یہ ’’بڑے گھر کی خواتین‘‘ مغربی طور طریقوں کی جو تبلیغ فرماتی ہیں، وہ کافی حد تک عبرت ناک ہے۔ اور ان تعلیمی مراحل کو طے کرنے کے بعد اگر کسی خوش بخت کو کوئی ملازمت میسر آہی گئی تو سمجھا جاتا ہے کہ مقصدِ زندگی حاصل ہوگیا ہے، بلاشبہ مزعومہ مقصد ضرور حاصل ہوگیا ہوگا، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ زندگی برباد ہوکر رہ گئی، اور صحیح لفظوں میں عورت کی زندگی مرد کی حرص و ہوا کا نشانہ بن گئی۔ ذرا زندگی کے ہر شعبے کی طرف نظر دوڑاؤ، جہاں جہاں عورت کو جکڑا گیا ہے، دُکانیں نہیں سجتیں، جب تک انہیں بیٹی اور دُلہن کی عریاں اور نیم عریاں تصاویر سے آراستہ نہ کیا جائے، کلب گھروں کی رونق عورتوں سے ہے، سینما ہال کی شان و شوکت عورتوں سے ہے، تفریحی پروگراموں میں عورت کا استعمال، غیرملکی مہمانوں کی آمد ہو تو بچیوں کا استقبال، ناچ اور ڈرامے کا طوفان ہو تو عورت حاضر، ریڈیو اسٹیشن پر اناؤنسری کی خدمت ہو تو عورت درکار، کتابوں اور رسالوں کی زینت عورت سے، اخبار اور مجلات کا کاروبار عورت کے دم قدم سے۔

سیاسیات میں صدارت اور وزارت کے لئے عورت، غیرملکی وفود اور سفارت کے لئے عورت، ہوائی مہمانوں کی میزبان ملت کی بہن اور بیٹی، ہسپتالوں میں غیرمحرَم مردوں کی عیادت اور مرہم پٹی کرنے والی قوم کی نونہال، دفتروں میں افسرانِ بالا کے ماتحت کام کرنے والی ملت کی خواتین، اور بعض نجی معاملات میں خدمت بجا لانے والی قوم کی بہو بیٹیاں، ہائے! اکبر مرحوم اگر آج ہوتا تو کیا کچھ نہ کہتا:

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟

کہنے لگیں کہ: عقل پہ مردوں کی پڑ گیا!

الف:۔ زمانے کا تغیر، کبھی مسلمان، غیرت مند مسلمان اس منحوس تعلیم کے ابتدائی اثرات کو دیکھ کر ’’غیرتِ قومی‘‘ سے گڑ جایا کرتے تھے، لیکن آج کا مسلمان کہلانے والا، جس کے لئے عورتوں کے منہ کا نقاب پردۂ عقل کی شکل اختیار کرگیا ہے، اس کے انتہائی ’’آثارِ بد‘‘ پر بھی ماتم نہیں کرتا، وہ اس تعلیمی فضا کی پیدا کردہ ذہنی اور اخلاقی انارکی کو آنکھوں سے دیکھتا ہے، سسکتی ہوئی اور دَم توڑتی ہوئی انسانیت کی آہ و فریاد اور نالہ و گریہ اپنے کانوں سے سنتا ہے، لیکن بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہے۔

سعودی عرب میں شاہ فیصل کے دور میں جس وسیع پیمانے پر اصلاحات ہو رہی ہیں، اس کی خبریں ہمارے ہاں برابر چھپتی رہتی ہیں۔ ۲۷؍مئی کے پاکستان ٹائمز میں ’’سعودی عرب کا بدلتا ہوا معاشرہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا ہے، مضمون نگار ’’لڑکیوں کی تعلیم‘‘ کے ذکر میں لکھتے ہیں:

’’۱۹۶۱ء میں درعیہ میں لڑکیوں کے مدرسے کی پہلی جماعت شروع کی گئی، اس میں صرف ۱۲ طالبات تھیں، اور لوگ اس بدعت سے کچھ متوحش سے تھے، اب اس قسم کے ۱۴ دیہی مراکز میں ۱۵۱۶ دن کی اور ۹۵۲ رات کی جماعتیں ہیں۔‘‘

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ان سالوں میں سعودی خواتین عزلت کی زندگی سے نکل کر عوامی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگی ہیں، وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد قومی تعمیر کے کاموں میں شریک ہو رہی ہیں، ان کے لئے مدارس میں بحیثیت اُستانیوں کے، سماجی بہبود کے اِداروں میں بطور سماجی کارکنوں کے اور ہسپتالوں میں بحیثیت نرسوں کے برابر مواقع نکل رہے ہیں، (فکر و نظر جلد:۳ شمارہ:۹-۱۰ ص:۶۳۰) اس بنائے افتخار پر اس کے سوا اور کیا عرض کرسکتے ہیں:

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر