سلامومصافحہ
نامحرَمکوسلامکرنا
سوال:۔
کیا نامحرَم عورتوں کو سلام کرنا چاہئے یا ان کے سلام کا جواب دینا چاہئے؟ اگر سلام نہیں کرتے تو کہتے ہیں کہ ان کو ان کے ماں باپ نے کچھ سکھایا نہیں ہے، اور اگر کوئی سلام کرتا ہے اور اس کا جواب نہیں دیتے تو ان کی دِل آزاری ہوتی ہے، کیا نامحرَم عورتوں کو سلام کرنا یا جواب دینا جائز ہے؟ ذرا تفصیل سے جواب دیں۔
جواب:۔
نامحرَم جوان عورت کو سلام کرنا اور اس کے سلام کا جواب دینا خوفِ فتنہ کی وجہ سے ناجائز ہے، البتہ کوئی بڑی بوڑھی ہو تو اس کو سلام کہنا جائز ہے۔(۱)
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو ماں باپ نے کچھ سکھایا ہی نہیں، ان سے یہ کہا جائے کہ ماں باپ نے نہیں بلکہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سکھایا ہے کہ فتنے کی جگہ سے بچا جائے۔(۲) اگر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے سے کسی کی دِل آزاری ہوتی ہے تو اس کی پروا نہ کی جائے، کیونکہ کسی کی دِل شکنی سے بچنے کے بجائے اپنی دِین شکنی سے بچنا زیادہ اہم ہے۔
- (۱) وإذا سلّمت المرأۃ الأجنبیۃ علٰی رجلٍ إن کانت عجوزًا رد الرجل علیھا السلام بلسانہٖ بصوتٍ تسمع وإن کانت شابۃً ردّ علیھا فی نفسہٖ وکذا الرجل إذا سلّم علٰی إمرأۃ أجنبیۃ فالجواب فیہ علی العکس۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۶۹)۔
- (۲) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: إتقوا مواضع التھم، ھو معنٰی قول عمر من سلک مسالک التھم اتھم، رواہ الخرائطی فی مکارم الأخلاق۔ (الموضوعات الکبریٰ ص:۴۹، رقم الحدیث:۱۵۱، حرف الھمزۃ)۔

