بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام‌و‌مصافحہ

بڑے‌بزرگ‌کی‌تعظیم‌کے‌لئے‌کھڑے‌ہونا

سوال:۔

میں نے ایک حدیث پڑھی تھی کہ ایک جگہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھتے تھے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہ کرامؓ کھڑے ہوگئے، جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ،بیٹھ جاؤ، تعظیم صرف خدا کو زیب دیتی ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو ۱-اُستاد جب کلاس میں داخل ہوتا ہے تو اُستاد کو دیکھ کر لڑکے کھڑے ہوجاتے ہیں، ۲-جب کسی آفس میں کوئی افسر داخل ہوتا ہے تو تمام کارکن اس کو دیکھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، ۳-فوجی افسر بھی اپنے آفیسروں کو دیکھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور سلیوٹ مارتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ تمام حرکات دُرست ہیں یا ان کو ختم کردینا چاہئے؟ براہِ کرم تمام مسائل کا جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

جواب:۔

بڑے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونا جائز ہے، مگر بڑے کو دِل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوں، اس حدیثِ پاک کا یہی محمل ہے۔(۱)

  1. (۱) عن أنس قال: لم یکن شخص أحب إلیھم من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکانوا إذا رأوہ لم یقوموا لما یعلمون من کراھیتہ لذالک۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۰۰، باب ما جاء فی کراھیۃ قیام الرجل للرجل)۔ أیضًا: (قولہ یجوز بل یندب القیام تعظیمًا للقادم) أی إذا کان ممن یستحق التعظیم۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۳۸۴)۔