سلامومصافحہ
السلامعلیکمکےجوابمیںالسلامعلیکمکہنا
سوال:۔
دورِ حاضر میں جہاں نت نئے فیشن وجود میں آئے ہیں وہاں ایک جدید فیشن یہ بھی عام ہوتا جارہا ہے کہ جب دو آدمی آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو دونوں ’’السلام علیکم‘‘کہتے ہیں، جواباً ’’وعلیکم السلام‘‘ کوئی نہیں کہتا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ نمازیوں کی اکثریت بھی اس فیشن کو تیزی سے اپنا رہی ہے، نہ جانے کیوں لوگ ’’وعلیکم السلام‘‘ کہنے میں جھجکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وعلیکم السلام کہنے سے ان کے وقار میں کچھ کمی آجائے گی۔
جواب:۔
وعلیکم السلام کہنے میں عار نہیں بلکہ جو شخص السلام علیکم کہنے میں پہل کرے، اس کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہنا واجب ہے۔(۱) غلط رواج کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے کہ اگر دونوں ایک ساتھ سلام کہہ دیں تو دونوں ایک دُوسرے کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہا کریں، اور اگر ایک پہلے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ دے تو دُوسرا صرف ’’وعلیکم السلام‘‘ کہے۔(۲)
- (۱) قلت: فھٰذا مع ما مر یفید إختصاص وجوب الرد بما إذا ابتدأ بلفظ السلام علیکم أو سلام علیکم وقدمنا أن للمجیب أن یقول فی الصورتین ۔۔۔ ومفادہ أن ما صلح للإبتداء صلح للجواب ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۱۶)۔
- (۲) ویسلم الماشی علی القاعد ۔۔۔ وإذا التقیا فأفضلھما یسبقھما، فإن سلما معا یرد کل واحد ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۱۶، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع، طبع سعید)۔

