بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام‌و‌مصافحہ

جوڈو‌کراٹے‌سینٹر‌کا‌سلام‌میں‌جھکنے‌کا‌قانون‌خلافِ‌شرع‌ہے

سوال:۔

درج ذیل مسئلے میں شریعتِ اِسلامیہ کا حکم درکار ہے: ہم چند طلباء جوڈو کراٹے کے ایک سینٹر میں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں، ہماری ٹریننگ کا یہ اُصول ہے کہ جب بھی طلباء سینٹر میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں اپنے اساتذہ وغیرہ کے سامنے ہاتھ کھلے چھوڑتے ہوئے اس قدر جھکنا پڑتا ہے جیسے نماز میں رُکوع کی حالت ہوتی ہے۔ ہمارے سینٹر میں بعض دفعہ غیرملکی اور غیرمسلم اساتذہ بھی آتے ہیں اور ٹریننگ کے اُصول کے مطابق ہمیں ان کے سامنے بھی جھکنا پڑتا ہے، ہم نے اس معاملے میں احتجاج بھی کیا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اساتذہ نے کہا کہ اگر آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل پیش کریں تو یہ قانون ختم کیا جاسکتا ہے تاکہ اسلامی اَحکام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ آپ سے گزارش ہے کہ اگر اسلام مذکورہ بالا صورت میں کسی کے سامنے جھکنے کی اجازت نہیں دیتا تو اس کی وضاحت فرمائیں تاکہ ہم اپنے اساتذہ کو قائل کرسکیں۔

جواب:۔

آپ کی ٹریننگ کا یہ اُصول کہ سینٹر میں داخل ہوتے وقت یا باہر سے آنے والے اساتذہ وغیرہ کے سامنے رُکوع کی طرح جھکنا پڑتا ہے، شرعی نقطۂ نظر سے صحیح نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کرتے وقت جھکنے کی ممانعت فرمائی ہے، چہ جائیکہ مستقل طور پر اساتذہ کی تعظیم کے لئے ان کے سامنے جھکنا اور رُکوع کرنا جائز ہو۔ حدیث شریف میں ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ’’ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے سامنے جھکنا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں!‘‘ (مشکوٰۃ ص: ۴۰۱، بروایت ترمذی)۔(۱)

مجوسیوں کے یہاں یہی طریقہ تھا کہ وہ بادشاہوں، امیروں اور افسروں کے سامنے جھکتے تھے، اسلام میں اس فعل کو ناجائز قرار دیا گیا۔ ٹریننگ کا مذکورہ اُصول اسلامی اَحکام کے منافی ہے، لہٰذا ذمہ دار حضرات کو چاہئے کہ وہ فوراً اس قانون کو ختم کریں۔ اگر وہ اسے ختم نہیں کرتے تو طلباء کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس سے انکار کریں، اس لئے کہ خدا کی ناراضی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) عن أنس قال: قال رجل: یا رسول اللہ! الرجل منا یلقی أخاہ أو صدیقہ أینحنی لہ؟ قال: لَا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۰۱، باب المصافحۃ والمعانقۃ)۔
  2. (۲) عن النواس بن سمعان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۲۱، کتاب الْإمارۃ، الفصل الثانی)۔