سلامومصافحہ
اِمامصاحبسےجھککرمصافحہکرنا
سوال:۔
خصوصاً نمازِ جمعہ کے بعد اور عموماً جب نماز ختم ہوجاتی ہے تو بہت سے نمازی حضرات اِمام صاحب سے بڑھ چڑھ کر مصافحہ کرنے لگتے ہیں، اور اس دوران اچھا خاصا جھک جاتے ہیں گویا کہ رُکوع کے مشابہ ہوجاتا ہے، اور اِمام صاحب اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے، کیا یہ سنت ہے کہ اِمام صاحب سے جھک کر مصافحہ کیا جائے؟
جواب:۔
مصافحہ کرتے وقت جھکنا نہیں چاہئے۔(۱)
- (۱) عن أنس قال: قال رجلٌ یا رسول اللہ الرجل منّا یلقی أخاہ أو صدیقہ، أینحنی لہ؟ قال: لَا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۰۱، باب المصافحۃ والمعانقۃ)۔ وفی فتاوی الھندیۃ: الْإنحناء للسلطان أو لغیرہ مکروہ لأنہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواھر الأخلاطی ویکرہ الْإنحناء عند التحیۃ وبہ ورد النھی کذا فی التمرتاشی۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۵ ص:۳۶۹)۔

