بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام‌و‌مصافحہ

کسی‌بڑے‌کی‌تعظیم‌کے‌لئے‌کھڑے‌ہونا

سوال:۔

میں کئی مرتبہ اخبار ’’جنگ‘‘ میں ’’فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے عنوان کے تحت شائع ہونے والی حدیثوں میں ایک حدیث پڑھ چکا ہوں، جس کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محفل میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرامؓ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت ناپسند فرمایا اور اپنے احترام کے لئے کھڑے ہونے کو منع فرمایا۔

اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ آج کل کافی افراد اساتذہ یا بزرگوں یا پھر بڑے عہدوں پر فائز حکمراں افراد کے احترام میں کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں، حدیث مبارکہ کی حقیقت سے انکار تو ممکن نہیں لیکن شاید ہم کم فہم لوگ اس کی تشریح صحیح نہ کرسکے ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرماکر اس بات کی مکمل وضاحت فرمائیں کہ آیا کسی بھی شخص (چاہے وہ والدین ہوں یا ملک کا صدر ہی کیوں نہ ہو) کے لئے (اس حدیث کی روشنی میں) کھڑا ہونا جائز نہیں؟ یا پھر اس حدیث شریف کا مفہوم کچھ اور ہے؟

جواب:۔

یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں، ایک یہ کہ کسی کا یہ خواہش رکھنا کہ لوگ اس کے آنے پر کھڑے ہوا کریں، یہ متکبرین کا شیوہ ہے، اور حدیث میں اس کی شدید مذمت آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ’’جس شخص کو اس بات سے مسرّت ہو کہ لوگ اس کے لئے سیدھے کھڑے ہوا کریں، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۰۳ بروایت ترمذی وابوداؤد)۔(۱)

بعض متکبر افسران اپنے ماتحتوں کے لئے قانون بنادیتے ہیں کہ وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوا کریں، اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کی شکایت ہوتی ہے، اس پر عتاب ہوتا ہے اور اس کی ترقی روک لی جاتی ہے، ایسے افسران بلاشبہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق ہیں کہ: ’’انہیں چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائیں۔‘‘

اور ایک یہ کہ کسی دوست، محبوب، بزرگ اور اپنے سے بڑے کے اکرام و محبت کے لئے لوگوں کا ازخود کھڑا ہونا، یہ جائز بلکہ مستحب ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آمد پر کھڑے ہوجاتے تھے، ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے تھے اور ان کو اپنی جگہ بٹھاتے تھے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کھڑی ہوجاتیں، آپ کا دست مبارک پکڑ کر چومتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ (مشکوٰۃ ص:۴۰۲)(۲) یہ قیام، قیامِ محبت تھا۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضراتِ انصار رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا:

’’قُوْمُوْا اِلٰی سَیِّدِکُمْ! مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳، ۴)

یعنی ’’اپنے سردار کی طرف کھڑے ہوجاؤ‘‘ یہ قیام اِکرام کے لئے تھا۔(۳)

ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہمارے ساتھ بیٹھے ہم سے گفتگو فرماتے تھے، پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کے دولت کدے میں داخل نہ ہوجاتے (مشکوٰۃ ص:۴۰۳)۔(۴)

یہ قیام تعظیم و اِجلال کے لئے تھا، اس لئے مریدین کا مشائخ کے لئے، تلامذہ کا اساتذہ کے لئے اور ماتحتوں کا حکامِ بالا کے لئے کھڑا ہونا، اگر اس سے مقصود تعظیم و اِجلال یا محبت و اِکرام ہو تو مستحب ہے، مگر جس کے لئے لوگ کھڑے ہوتے ہوں اس کے دِل میں یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ لوگ کھڑے ہوں۔(۵)

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من سرہ أن یتمثل لہ الرجال فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ (مشکٰوۃ ص:۴۰۳)۔
  2. (۲) عن عائشۃ قالت: ما رأیت أحدا کان أشبہ سمتا وھدیا ودلّا وفی روایۃ حدیثا وکلاما برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من فاطمۃ کانت إذا دخلت علیہ قام إلیھا فأخذ بیدھا فقبّلھا وأجلسھا فی مجلسہ وکان إذا دخل علیھا قامت إلیہ فأخذت بیدہ فقبّلتہ وأجلستہ فی مجلسھا۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۴۰۲، باب المصافحۃ والمعانقۃ، الفصل الثانی)۔
  3. (۳) (قوموا إلٰی سیدکم) قیل أی لتعظیمہ ویستدل بہ علٰی عدم کراھتہ ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۸ ص:۴۷۳)۔
  4. (۴) عن أبی ھریرۃ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یجلس معنا فی المسجد یحدثنا فإذا قام قمنا قیاما حتّٰی نراہ قد دخل بعض بیوت أزواجہ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۰۳، باب القیام، الفصل الثالث)۔
  5. (۵) (قولہ یجوز بل یندب القیام تعظیمًا للقادم) أی إذا کان ممن یستحق التعظیم ۔۔۔ وفی مشکل الآثار القیام لغیرہ لیس بمکروہ لعینہ إنما المکروہ محبۃ القیام لمن یقام لہ، فإن قام لمن لَا یقام لہ لَا یکرہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۳۸۴)۔