سلامومصافحہ
غیرمسلمکوسلامکرنااوراسکےسلامکاجوابدینا
سوال:۔
آج کل ملا جلا معاشرہ ہے، جس میں غیرمسلم بھی ہیں، لوگ ان کو بھی سلام کرتے ہیں، غیرمسلم بھی سلام کردیتے ہیں، جس کا جواب بھی دیا جاتا ہے، یہ بتایا جائے کہ غیرمسلم کو سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا کتاب و سنت کی روشنی میں حدیث کی رُو سے منع ہے یا کہ صرف اخلاقی طور پر منع ہے؟ کیا ایسی کوئی حدیث موجود ہے جس کے تحت منع کیا گیا ہو کہ غیرمسلم کو سلام و جواب نہ کیا جائے؟
جواب:۔
سلام ایک دُعا بھی ہے اور اسلام کا شعار بھی، اس لئے کسی غیرمسلم کو ’’السلام علیکم‘‘ نہ کہا جائے، اور اگر وہ سلام کہے تو اس کے جواب میں صرف ’’وعلیکم‘‘ کہہ دیا جائے، یہ مضمون حدیث شریف میں آیا ہے:
’’عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ اَھْلُ الْکِتٰبِ فَقُوْلُوْا: وَعَلَیْکُمْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۹۸)
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہلِ کتاب تمہیں سلام کہیں تو تم جواب میں ’’وعلیکم‘‘ کہہ دیا کرو۔‘‘

