سلامومصافحہ
نامحرَمعورتکےسلامکاجوابدیناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
عورتوں کو نامحرَم مرد سلام نہیں کرسکتا، اگر عورت سلام میں پہل کردے تو جواب دیا جائے یا نہیں؟ میرے کام کاج میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ مختلف گھروں میں جانا پڑتا ہے، بعض خواتین کو میں، اور وہ مجھے جانتی ہیں، گو کہ ہم سلام نہ کریں مگر اوّل تو وہ خواتین پردہ نہیں کرتیں، دوئم یہ کہ جس کام کے متعلق میں ان کے گھر گیا ہوں اس پر بات چیت ہوتی ہے، لہٰذا پوچھنا یہ ہے کہ ایسی عورتوں کو سلام کیا جائے یا نہیں؟ یا سلام کا جواب دیا جائے یا نہیں؟
جواب:۔
جوان عورتوں کو سلام کہنا جائز نہیں، اگر وہ سلام کریں تو دِل میں جواب دے دیا جائے۔(۱) نامحرَم مردوں اور عورتوں کو ایک دُوسرے کے سامنے بے محابا آنا جائز نہیں،(۲) اگر کوئی شخص فسادِ معاشرت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہو تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ اِستغفار کرتا رہے۔
- (۱) ولَا یکلم الأجنبیۃ إلّا عجوزًا إذا عطست أو سلّمت فیشمتھا ویرد السلام علیھا وإلّا لَا۔ (درمختار)۔ وإلّا تکن عجوزًا بل شابۃ لَا یشمتھا ولَا یرد السلام بلسانہٖ ۔۔۔ وإذا سلّمت المرأۃ الأجنبیۃ علٰی رجل إن کانت عجوزًا رد الرجل علیھا السلام بلسانہٖ بصوتٍ تسمع وإن کانت شابۃً ردّ علیھا فی نفسہٖ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۶۹، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
- (۲) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩۔ أیضًا: وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لَا لأنہ عورۃ بل لخوف الفتنۃ۔ وفی الشرح: والمعنی تمنع من الکشف لخوف أن یری الرجال وجھھا فتقع الفتنۃ لأنہ مع الکشف قد یقع النظر إلیھا بشھوۃ۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۴۰۶)۔

