بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام‌و‌مصافحہ

مصافحہ‌ایک‌ہاتھ‌سے‌سنت‌ہے‌یا‌دونوں‌سے؟

سوال:۔

مصافحہ ایک ہاتھ سے ہوتا ہے یا دونوں ہاتھوں سے سنت ہے؟ حدیث سے ثبوت فراہم فرمائیں۔

جواب:۔

صحیح بخاری (ج:۲ ص:۹۲۶) میں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:

’’عَلَّمَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّشَہُّدَ وَکَفِّیْ بَیْنَ کَفَّیْہِ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے التحیات سکھائی، اور اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔‘‘

اِمام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث ’’بَابُ الْمُصَافَحَۃِ‘‘ کے تحت ذکر فرمائی ہے، اور اس کے متصل ’’بَابُ الْأَخْذِ بِالْیَدَیْنِ‘‘ کا عنوان قائم کرکے اس حدیث کو مکرّر ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی رُوح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تحریر فرمایا ہے:

’’اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی اُلفت و محبت کا اظہار ہے۔‘‘(۱)

(حجۃاﷲ البالغہ ج:۲ ص:۱۹۸ آداب الصحبۃ)

اور فطرتِ سلیمہ سے رُجوع کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تواضع، انکسار، اُلفت و محبت اور بشاشت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں نہیں پائی جاتی۔

  1. (۱) وذالک لأن التبشیش فیما بین المسلمین وتوادھم وتلاطفھم وإشاعۃ ذکر اللہ فیما بینھم یرضی بھا رب العالمین۔