بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام‌و‌مصافحہ

سلام‌کے‌وقت‌پیشانی‌پر‌ہاتھ‌رکھنا‌اور‌بوسہ‌دینا

سوال:۔

اسلام میں ملاقات کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ پیشانی تک ہاتھ اُٹھاکر سر کو ذرا جھکاکر سلام کرنا کیسا ہے؟ نیز بعض ملاقاتوں میں دیکھا گیا ہے کہ گلے ملتے وقت پیشانی یا کنپٹی کو بوسہ دیتے ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

سلام کے وقت پیشانی پر ہاتھ رکھنا یا جھکنا صحیح نہیں، بلکہ بدعت ہے۔ مصافحہ کی اجازت ہے،(۱) اور تعظیم یا شفقت کے طور پر چومنے کی بھی اجازت ہے۔(۲)

  1. (۱) عن عطاء الخراسانی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: تصافحوا یذھب الغل۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۰۳)۔ (کالمصافحۃ) أی کما تجوز المصافحۃ لأنھا سُنَّۃ قدیمۃ متواترۃ لقولہ علیہ السلام من صافح أخاہ المسلم وحرک یدہ تناثرت ذنوبہ۔ (درمختار ج:۶ ص:۳۸۱، کتاب الحظر والْإباحۃ، باب الْإستبراء وغیرہ)۔
  2. (۲) عن ذارع وکان فی وفد قیس قال: لمّا قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلہ۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۰۲)۔ ولَا بأس بتقبیل ید الرجل العالم والمتورع علٰی سبیل التبرک ۔۔۔ وتقبیل رأسہ أی العالم أجود۔ (درمختار ج:۶ ص:۳۸۳)۔ أیضًا: قال الْإمام العینی بعد کلام فعلم إباحۃ تقبیل الید والرِّجل والرأس والکشح کما علم من الأحادیث المتقدمۃ إباحتھا علی الجبھۃ وبین العینین وعلی الشفتین علٰی وجہ المبرۃ والْإکرام۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۸۰، کتاب الحظر والْإباحۃ، باب الْإسبتراء وغیرہ)۔