بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

علاقائی‌تعصبات‌اُبھار‌کر‌مسلمانوں‌میں‌اِنتشار‌پیدا‌کرنا

سوال:۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کچھ اس طرح سے ہے کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اور ان کی خوشی وغم ایک ہیں۔ یعنی اگر جسم کے کسی حصے میں درد ہو تو سارا جسم اسے محسوس کرتا ہے، یعنی مسلمانوں کو اس طرح مل جل کر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دُوسری طرف ہمارے ملک کے کچھ بوڑھے سیاست دان زبان اور علاقے کی بنیاد پر تعصب کی اِنتہا کو پہنچ گئے ہیں اور نوجوانوں کو اس حد تک بہکادیا ہے کہ وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی جان ومال کو نقصان پہنچاتے ہوئے نہیں ڈرتے۔ کیا ایسے لوگ جو مسلمانوں کے درمیان نفاق پیدا کریں قرآن وحدیث کی روشنی میں منافق کہلائیں گے یا نہیں؟

جواب:۔

مسلمان تو مشرق کے ہوں یا مغرب کے، جسدِ واحد کی طرح ہیں۔(۱) جو لوگ علاقائی تعصبات اُبھارکر مسلمانوں کے درمیان نفرت وبیزاری کی فضا پیدا کرتے ہیں، وہ درحقیقت مسلمان ہیں ہی نہیں۔(۲) وہ تو مسلمانوں کے ازلی دُشمن ہیں اور اپنے بغض وعناد کی چھری سے جسدِ ملت کو کاٹنا چاہتے ہیں۔ ہمارے بھولے بھالے نوجوان ازلی دُشمنوں کے پُرفریب نعروں سے متأثر ہوکر انہی کے لے میں لے ملانا شروع کردیتے ہیں۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف دہلویؒ ۔۔۔تبلیغی جماعت کے سابق اِمام۔۔۔ فرمایا کرتے تھے: یہ اُمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خون پسینہ بہاکر بڑی محنت سے تیار کی ہے، جو شخص اس کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ ڈالیں گے۔

  1. (۱) عن النعمان بن بشیر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: مثل المؤمنین فی توادھم وتراحمھم وتعاطفھم مثل الجسد إذا اشتکٰی منہ عضو تداعٰی لہ سائر الجسد بالسھر والحمّٰی۔ (وفی روایۃ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المؤمنون کرجل واحد، إن اشتکٰی رأسہ تداعٰی سائر الجسد بالحمّٰی والسھر۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۲۱، باب تراحم المؤمنین وتعاطفھم وتعاضدھم)۔
  2. (۲) عن جبیر بن مطعم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لیس منّا من دعا إلٰی عصبیّۃ، ولیس منّا من قاتل عصبیّۃ، ولیس منّا من مات علٰی عصبیۃ۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکوٰۃ ص:۴۱۸، باب المفاخرۃ والعصبیۃ، الفصل الثانی)۔