بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

ایک‌بچی‌کی‌شکایات‌اور‌اُن‌کے‌جوابات

سوال:۔

میرا نام شمائلہ سبحان ہے، میں آٹھویں جماعت کی طالبہ ہوں۔ مجھے اپنے اس ملک کے لوگوں سے شکایتیں ہیں، میں آپ کے سامنے اپنی شکایتیں پیش کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آپ نے میری شکایت نہ چھاپی تو میں سمجھوں گی مجھے نظرانداز کردیا گیا ہے۔

میری پہلی شکایت:۔ مجھے شکایت یہاں کے ڈاکٹروں سے ہے، جو بڑے ہی بے وفا ہوتے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ ڈاکٹر بیمار مریضوں کا علاج کرکے انہیں صحت دیتے ہیں، لیکن عام کلینک کے برعکس بڑے بڑے اسپتالوں میں تو ڈاکٹر ایک دُوسرے سے جلتے ہیں۔ اگر کوئی ڈاکٹر اپنے مریض کے پاس ہو، اور اس کے برابر والے پلنگ پر کوئی مریض تڑپ تڑپ کر مر رہا ہو، تو اس کے پاس جاکر اس کی مدد کرنے کے بجائے وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہ مریض فلاں کا ہے، اسے اس کے پاس ہونا چاہئے تھا، یہ میرا مریض تو نہیں ہے۔ وہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر اسی پلنگ پر ان کا بھائی ہوتا، تو کیا وہ پھر بھی اپنی بات پر اَڑے رہتے۔؟

میری دُوسری شکایت:۔ میری دُوسری شکایت ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہمارے ملک کا امن ختم کردیا ہے۔ آخر کیوں؟ کیوں یہ لوگ ایک دُوسرے کی جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں؟ کب تک یہ لوگ اغوا، چوری، فائرنگ کرتے رہیں گے؟ آخر ان لوگوں کو یہ سب کچھ کرنے سے کیا مل رہا ہے؟ پیسہ! تو وہ یہ محنت مزدوری کرکے بھی کماسکتے ہیں۔ کیا ان کو اپنے بہن بھائیوں، ماںباپ پر فائرنگ کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی؟ لوگوں کا تو جینا حرام ہوچکا ہے، لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں، کیا ان کا یہ ڈَر ہم ختم نہیں کرسکتے؟ میں پولیس والوں اور حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس شکایت پر غور کریں۔

جواب:۔

پیاری بچی! آپ کا خط تو میں نے چھاپ دیا، اور اَب آپ کے لئے اس شکایت کا موقع نہیں رہا کہ ’’اگر آپ نے میری شکایت نہ چھاپی تو میں سمجھوںگی کہ آپ نے مجھے نظرانداز کردیا۔‘‘

آپ کی پہلی شکایت کا جواب یہ ہے کہ سارے ڈاکٹر ایسے نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر صاحبان اکثر وبیشتر بڑے خوش اخلاق، ہمدرد اور جذبۂ خدمتِ خلق سے سرشار ہوتے ہیں، دُکھی اِنسانیت کی خدمت کرنا ان کا واقعی نصب العین ہوتا ہے۔ ہاں! بعض ایسے بھی ہیں جن کا آپ نے ذِکر کیا ہے، انہیں دِین ومذہب اور اِنسان واِنسانیت سے کوئی دِلچسپی نہیں، انہیں پیسے سے محبت ہے اور بس!

دس بارہ برس پہلے کی بات ہے، مجھے دردِ گردہ کی شکایت ہوئی، میرے ایک مخدوم ومحترم نے ایک ’’اسپیشلسٹ‘‘ سے وقت لیا، اور مجھے ان کے ’’کلینک‘‘ میں لے گئے۔ موصوف نے زبان ہلانے کی زحمت سے بچتے ہوئے مجھے ’’بیڈ‘‘ پر لیٹنے کا اِشارہ دیا، میں نے بصدجان ان کے اِشارۂ چشم وابرو کی تعمیل کی۔ موصوف اپنی کرسی سے اُٹھے، ایک گھونسا میرے پیٹ کے ایک طرف، دُوسرا، دُوسری طرف مارکر فرمایا: ’’ایک گھڑا پانی پیا کرو!‘‘ لیجئے یہ تھی ان کی تجویز وتشخیص! ’’اُونچی دُکان پھیکا پکوان‘‘۔ میرے مخدوم نے جو مجھے ’’اسپیشلسٹ‘‘ کے پاس بڑے اِصرار کے ساتھ لے کرگئے تھے، گراںقدر ’’فیس‘‘ کا نذرانہ ان کی خدمت میں پیش کیا اور ہم چلے آئے۔ اس ناکارہ کو ان کی رعونت اور اپنی حماقت پر آج تک حیرت ہے۔

دراصل ایسے لوگوں نے سالہاسال کی محنت کے ساتھ ’’کورس‘‘ تو کرلیا، لیکن کسی انسان کے پاس بیٹھ کر آدمیت کا کورس نہیں کیا۔

رہی آپ کی دُوسری شکایت! تو اس پر تو بے شمار کالم لکھے جاچکے ہیں، یہ ناکارہ اس پر کیا لکھے اور کیا نہ لکھے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

ترجمہ:۔ ’’آپ کہہ دیجئے کہ وہ (اللہ تعالیٰ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اُوپر سے بھیج دے (جیسے پتھر، یا ہوا، یا بارش طوفانی) یا تمہارے پاؤں تلے سے (جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا) یا کہ تم کو گروہ گروہ سب کو بھڑادے، اور تمہارے ایک کو دُوسرے کی لڑائی (کا مزہ) چکھادے۔‘‘ (۱)

اس آیت میں آسمانی عذاب کی تین شکلیں ذِکر فرمائی گئی ہیں۔ آسمان سے عذاب کا نازل ہونا، زمین سے عذاب کا پھوٹ نکلنا، اور مختلف گروہوں اور ٹکڑیوں میں بٹ کر ایک دُوسرے کے درپے آزار ہونا۔ اس ناکارہ کی رائے یہ ہے کہ ہماری شامتِ اعمال کی وجہ سے عذابِ اِلٰہی کی یہ تیسری صورت ہم پر مسلط کردی گئی ہے۔ مسلمانوں کی یہ کمزوری ۔۔۔مشیتِ اِلٰہی کے ماتحت۔۔۔ ہمیشہ رہی ہے کہ دُشمن ان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے ان کو لڑانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اور پھر ان کو جنگ وجدال کی بھٹی میں جلتا ہوا اور فتنہ وفساد کی چکی میں پستا ہوا دیکھ کر خود تماشا دیکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں جو فسادات ہوئے یا ہو رہے ہیں، وہ ہماری بدعملی کی سزا اور ہماری ناسمجھی کا کرشمہ ہے۔ اگر ہم آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ، جیسا کہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تاکید فرمائی تھی، تو ہماری یہ زندگی جہنم کدہ نہ ہوتی، بلکہ دُنیا میں ہی جنت کا نمونہ ہوتی۔

شکر ہے کہ سعودی عرب میں قتل، اغوا، فائرنگ کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، وہاں بہت سے اِسلامی قوانین کا نفاذ ہے، اس لئے عوام عافیت سے رہتے ہیں، اور وہاں کی حکومت اور پولیس عوام کی نگہبانی کرتی ہے۔

  1. (۱) ﵟ قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍ ﵞ سورة الأنعام ٦٥