بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

نماز‌پڑھنا‌اور‌جھوٹ‌بولنا،‌کسی‌کو‌ستانا‌وغیرہ‌کیسا‌فعل‌ہے؟

سوال:۔

میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ نماز پڑھنا اور جھوٹ بولنا، غریبوں کا حق مارنا، کسی کو ناجائز ستانا، اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اُٹھانا اور حق تلفی کرنا، یہ سب کیسے افعال ہیں؟ اور ایسے لوگوں کا قرآن میں کیا حکم آیا ہے؟

جواب:۔

جھوٹ بولنا، غریبوں کا حق مارنا، کسی کو ستانا، کسی کی حق تلفی کرنا، یہ سب بڑے گناہ ہیں، قیامت کے دن اہلِ حقوق کو ان کے حقوق دِلائے جائیں گے اور ایسے شخص کو خالی ہاتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جو شخص کسی کا حق مارتا ہے، وہ جو نماز روزہ کرتا ہے اور نیک کام کرتا ہے، وہ دراصل ان اہلِ حقوق کے لئے کرتا ہے۔ بڑا ہی سعادت مند ہے وہ شخص جو کسی کا حق لے کر قیامت کے دن بارگاہِ اِلٰہی میں پیش نہ ہو، اور بڑا ہی بدبخت ہے وہ آدمی جو بارگاہِ اِلٰہی میں ایسی حالت میں پیش ہو کہ لوگوں کے حقوق اس کی گردن میں ہوں۔(۱) جو لوگ غریبوں اور کمزوروں کے حقوق اپنے ذمے لیتے ہیں، دراصل ان کو قیامت کی پیشی یاد نہیں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس فینا من لَا درھم لہ ولَا متاع! فقال: إن المفلس من اُمّتی من یأتی یوم القیامۃ بصلٰوۃ وصیام وزکٰوۃ ویأتی قد شتم ھٰذا وقذف ھٰذا وأکل مال ھٰذا وسفک دم ھٰذا، وضرب ھٰذا، فیعطیٰ ھٰذا من حسناتہ وھٰذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضی ما علیہ، اُخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۳۵، باب الظلم، الفصل الأوّل)۔