بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

نماز‌پڑھنا‌اور‌چغل‌خوری‌کرنا

سوال:۔

لوگ نماز پڑھتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں اور چغل خوری کرتے ہیں۔ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں اور اپنے مفاد کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں، ایک دُوسرے کے خلاف جھوٹ بول کر نوکری سے نکلوادینا، یا چغل خوری کرکے بدنام کرنا، تو ایسے لوگوں کے لئے کیا سزا اور جزا ہے؟ اور اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب:۔

جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، کسی کو اِیذا پہنچانا اور جھوٹ سچ بول کر بلاوجہ ملازمت سے نکلوانا، سب گناہ ہیں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان لعنتوں سے بچائیں۔ یہ گناہ نماز روزے کے نور کو بھی مٹادیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ان گناہوں پر بڑی بڑی سزائیں بیان کی گئی ہیں، مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ: ’’چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘(۱) ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جھوٹ، اِیمان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا۔‘‘(۲) اللہ بچائے، کسی مسلمان کا ایسے گناہوں میں مبتلا ہونا بہت ہی ڈَر اور خوف کی بات ہے۔

  1. (۱) عن حذیفۃ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا یدخل الجنّۃ قتات۔ متفق علیہ۔ وفی روایۃ مسلم: نمام۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۱، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، الفصل الأوّل)۔
  2. (۲) عن صفوان بن سلیم انہ قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أیکون المؤمن جبانًا؟ قال: نعم! فقیل لہ: أیکون المؤمن بخیلًا؟ قال: نعم! فقیل لہ: أیکون المؤمن کذّابًا؟ قال: لَا! رواہ مالک والبیھقی فی شعب الْإیمان۔ (مشکوٰۃ ص:۴۱۴)۔