اخلاقیات
’’یہفعلسنتکےخلافہیتوہے‘‘یہگستاخانہالفاظہیں
سوال:۔
چند دِن پہلے میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، اس میں زور وشور سے دعوت کی، اس دعوت سے پہلے کئی لوگوں نے مجھے منع کیا تھا کہ دعوت مت کرو، کیونکہ لڑکی والوں کی دعوت کرنا سنت کے خلاف ہے، میں ان کو کہتا رہا کہ: ’’سنت کے خلاف ہی تو ہے، جیسے ہم سنتِ مؤکدہ ہمیشہ ادا نہیں کرتے، اس طرح اس کو بھی کرلیا، تو کیا ہوگا۔‘‘ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اس کے نتائج بہت بُرے ہوں گے۔ اب حالت یہ ہے کہ میں لکھ نہیں سکتا، طلاق تو ہو ہی گئی، اور بھی کئی ایسے واقعے ہوگئے جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں، اور لوگ اب کہتے ہیں کہ یہ سب سنت کے خلاف کا نتیجہ ہے۔ اب آپ جو مشورہ دیں، میں اس پر عمل کروں گا، یہ بھی بتائیں کہ کیا واقعی یہ فعل سنت کے خلاف اور یہ سارا اس کا نتیجہ ہے؟
جواب:۔
لڑکی والوں کا دعوت کرنا سنت کے خلاف ہے، اور آپ نے جو یہ الفاظ کہے کہ: ’’سنت کے خلاف کرلیا تو کیا ہوا‘‘ یہ الفاظ گستاخانہ تھے، جن کی نحوست پڑی۔ ان الفاظ سے توبہ کریں، اور اپنے حالات دُرست ہونے کے لئے خدا تعالیٰ سے دُعا کریں۔

