بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

چہرے‌پر‌مارنے‌کی‌ممانعت‌کیوں‌ہے؟

سوال:۔

سنا گیا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے چہرے پر تھپڑ مارنے والا گناہگار ہے، کیونکہ چہرہ خود خدا نے بنایا ہے، اور باقی تمام جسم فرشتوں نے بنایا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب:۔

حدیث میں کسی کے چہرے پر مارنے کی ممانعت تو آئی ہے۔ (صحیح مسلم) مگر اگلا مضمون جو آپ نے لکھا ہے، وہ صحیح نہیں۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا قاتل أحدکم أخاہ فلا یلطمنّ الوجہ ۔۔۔ وفی حدیث ابن حاتم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا قاتل أحدکم أخاہ فلیجتنب الوجہ فإن اللہ خلق آدم علٰی صورتہ۔ وفی شرح المسلم: قال العلماء ھٰذا تصریح بالنھی عن ضرب الوجہ لأنہ لطیف یجمع المحاسن وأعضائہ نفیسۃ لطیفۃ ۔۔۔ ویدخل فی النھی إذا ضرب زوجتہ أو ولدہ أو عبدہ ضرب تأدیب فلیجتنب الوجہ۔ (شرح النووی علی الصحیح المسلم ج:۲ ص:۳۲۷، باب النھی عن ضرب الوجہ)۔ أیضًا: عن حکیم بن معاویۃ القشیری عن أبیہ قال: قلت: یا رسول اللہ! ما حق زوجۃ أحدنا علیہ؟ قال: أن تطعمھا إذا طعمت وتکسوھا إذا اکتسیت ولَا تضرب الوجہ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۸۱، باب عشرۃ النساء وما لکل واحد من الحقوق، الفصل الثانی)۔