اخلاقیات
فحشکلامیمسلمانکاشیوہنہیں
سوال:۔
دیگر بدعتوں کی طرح جدید دور کی ایک بدعت لوگوں میں بڑھتی ہوئی فحش کلامی بھی ہے، جو ہمارے معاشرے میں پوری طرح پھیل چکی ہے، اور نوعمر لڑکے، نوجوان، بلکہ بوڑھے افراد بھی اس میں مبتلا نظر آتے ہیں، آپ کسی دفتر میں، دُکان پر، یا کسی بازار وغیرہ کی طرف نکل جائیں، آپ کے کانوں میں ایسی ایسی ننگی گالیاں اور فحش کلمات سنائی دیں گے جسے پابندِ شرع کوئی فرد سن کر شرم سے سر جھکالے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والے اور اس کے مخاطب کے لئے اب یہ کوئی معیوب بات ہی نہیں رہی۔ مزید حیرت کی بات یہ کہ اس گندی گفتگو اور مقدس رشتوں کی گالیاں بغیر کسی اِشتعال کے صرف بات میں مزہ یا زور پیدا کرنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ کسی قریبی اشاعت میں آپ ہمارے معاشرے میں رِواج پاجانے والی اس عادتِ خبیثہ کے خلاف حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارِد چند حدیثیں اور اس کے خلاف وعیدیں اور سزائیں تحریر فرمائیں، تاکہ اس بُرائی کا تدارک ہوسکے۔
جواب:۔
فحش کلامی مسلمان کا شیوہ نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منافق کی علامت فرمایا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہوگا، اور جس شخص کے اندر ان میں سے ایک بات پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے:
۱:۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
۲:۔ اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
۳:۔ اور جب معاہدہ کرے تو بدعہدی کرے۔
۴:۔ اور جب کسی سے جھگڑا یا مباحثہ کرے تو فحش کلامی کرے (مشکوٰۃ ص:۱۷)۔(۱)
اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’فضائلِ تبلیغ‘‘ میں درمنثور کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میری اُمت دُنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اِسلام کی ہیبت ووقعت اس کے قلوب سے نکل جائے گی، اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ بیٹھے گی تو وحی کی برکات سے محروم ہوجائے گی، اور جب آپس میں گالی گلوچ اِختیار کرے گی تو اللہ جل شانہ‘ کی نگاہ سے گرجائے گی۔(۲) الغرض! مسلمانوں کو آپس میں گالی گلوچ اور فحش کلامی کرنا بہت بُری اور ناپسندیدہ عادت ہے، اس کو ترک کرنا چاہئے کہ قیامت کے دن جب نامۂ عمل میں یہ گالیاں نکلیں گی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔؟
- (۱) عن عبداللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أربع من کن فیہ کان منافقًا خالصًا، ومن کانت فیہ خصلۃ منھن کانت فیہ خصلۃ من النفاق، حتّٰی یدعھا، إذا اؤتمن خان، وإذا حدّث کذب، وإذا عاھد غدر، وإذا خاصم فجر۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷، باب الکبائر وعلامات النفاق، کتاب الْإیمان، طبع قدیمی)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا عظّمت اُمّتی الدنیا نزعت منھا ھیبۃ الْإسلام، وإذا ترکت الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر حرمت برکۃ الوحی، وإذا تسابّت اُمّتی سقطت من عین اللہ۔ کذا فی الدرر عن الحکم الترمذی۔ (فضائل اعمال ص:۲۲۸، فضائل تبلیغ، حدیث نمبر۷)۔

