بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

ذہنی‌اِنتشار‌سے‌کیسے‌بچیں؟

سوال:۔

میں میٹرک کا طالب علم ہوں، اور میرے دِماغ میں طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں، میں آپ سے یہ جو سوالات پوچھ رہا ہوں، ان کے بارے میں مختلف مسجدوں میں بھی کہا تھا، مگر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک مسجد کے اِمام کے جوابات دُوسری مسجد کے اِمام کے جواب کے برعکس ہوتے ہیں، اور وہ ایک دُوسرے کو بُرا کہتے ہیں، آخر یہ تضاد کیوں ہے؟ ہم سب ایک دِین کے ماننے والے ہوتے ہوئے بھی ایک دُوسرے سے بالکل مختلف ہیں، آخر ایسا کیوں؟

جواب:۔

یہ بات خود ہی لوگ جانتے ہیں جو ایسے اُلٹے سیدھے جواب دیتے ہیں۔ البتہ اس ذہنی اِنتشار سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ جس عالمِ حقانی کے علم وعمل پر پورا اِعتماد ہو، دِینی رہنمائی کے لئے صرف اسی سے رُجوع کیا جائے۔ ہر قسم کے کچے پکے لوگوں سے دِینی مسائل دریافت نہ کئے جائیں، ورنہ ’’نیم حکیم خطرۂ جان، اور نیم مُلَّا خطرۂ اِیمان‘‘ تو مشہور ضرب المثل ہے۔