بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

گناہ‌گار‌آدمی‌کے‌ساتھ‌تعلقات‌رکھنا

سوال:۔

ایک آدمی زانی ہو، چور اور ڈاکو ہو، یتیموں کا مال کھاتا ہو، مال دار ہو اور صدقہ زکوٰۃ وصول کرتا ہو، وعدہ خلافی کرتا ہو، جھوٹ اور بکواس کرتا ہو، اپنی اچھائی اور صداقت کے لئے لوگوں کے سامنے قسمیں کھاتا ہو کہ میں نے فلاں کے ساتھ یہ اچھائی کی اور اس کا کام کیا۔ کیا ایسے شخص کے ساتھ معاملات رکھنا، اس کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور اس کے پیچھے نمازیں پڑھنا جائز ہے یا کہ نہیں؟ قرآن مجید اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب سے مطلع کریں۔

جواب:۔

یہ شخص گناہ گار مسلمان ہے، اس سے دوستانہ تعلقات تو نہ رکھے جائیں، لیکن ایک مسلمان کے جو حقوق ہیں، مثلاً: بیمارپُرسی اور نمازِ جنازہ وغیرہ ان کو ادا کیا جائے، اور اگر قدرت ہو اور نفع کی توقع ہو تو اس سے ان گناہوں کے چھڑانے کی کوشش کی جائے، ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے۔(۱)

  1. (۱) وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۵۶۰، باب الْإمامۃ)۔