اخلاقیات
لوگوںکاراستہبندکرنااورمسلمانوںسےنفرتکرناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
ہمارے علاقے میں ایک مولانا صاحب رہتے ہیں، جو کہ جمعہ اور عیدین پڑھاتے ہیں، کچھ روز قبل انہوں نے محکمۂ اوقاف سے مل کر لوگوں کے راستے اور قانونی گزرگاہوں کو تنگ کرنا اور بند کرنا شروع کردیا، جس سے لوگوں کو بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، علاقے کے لوگوں نے خدا کے واسطے دئیے مگر وہ صاحب ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ تو پھر لوگوں نے میونسپل کمیٹی اور اوقاف سے فریاد کی اور انہوں نے بھی علاقے کے لوگوں کے مسئلے کو جائز قرار دیا اور کہا کہ مولانا صاحب جس طرح کریں ہمیں کوئی اَعتراض نہیں ہوگا۔ آپ سے شریعت کی روشنی میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی مسلمان کا راستہ بند کرنا یا ذہنی کوفت پہنچانا شریعت میں کہاں تک دُرست ہے اور اس کی سزا کیا ہے؟
سوال:۔
کیا ان حالات میں ان صاحب کے پیچھے جمعہ اور عیدین کی نماز ہوتی ہے؟ جو کہ دِل میں مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔
جواب:۔
لوگوں کا راستہ بند کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔(۱)
جواب:۔
ان صاحب کو مسلمانوں سے نفرت نہیں کرنا چاہئے اور لوگوں کی ایذارسانی سے توبہ کرنی چاہئے، اگر وہ اپنا رویہ تبدیل نہ کریں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کی جگہ دُوسرا اِمام و خطیب مقرّر کرلیں۔
- (۱) عن عبداللہ بن عمرو عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہٖ، والمھاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ۔ (بخاری ج:۱ ص:۶، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ)۔

