بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

دیارِ‌غیر‌میں‌رہنے‌والے‌کس‌طرح‌رہیں؟

سوال:۔

پاکستان میں زیادہ پیسے کی نوکری نہیں ملتی اور زندگی کے دُوسرے معاملات میں رشوت زیادہ چلتی ہے، تو کیا صرف ان وجوہات کی وجہ سے کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ امریکا جیسے ملک میں رہے؟ کیونکہ وہاں بُرائیاں بہت عام ہیں، کیا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ امریکن شہریت حاصل کرلے؟ کیونکہ امریکن شہریت حاصل کرنے کے لئے اپنی سابقہ شہریت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے اور حلف اُٹھانا پڑتا ہے کہ میں امریکن قوانین کا پابند رہوں گا۔ اور ان قوانین میں جیسے کہ دُوسری شادی نہیں کرسکتے، یعنی کچھ امریکن قوانین اسلامی شریعت سے متصادم ہوتے ہیں، کیا مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ صرف اچھے مستقبل کی خاطر اس قسم کے حلف اُٹھاسکتا ہے؟ عصری علم حاصل کرنے کے لئے امریکا میں ہمارے نوجوان رہتے ہیں، تو کیا ہمارا یہ فعل شریعت کے خلاف تو نہیں؟

جواب:۔

ایک جنت تو شدّاد نے بنائی تھی، اور ایک جنت دورِ جدید کے شدّاد (مغربی ممالک) نے بنائی ہے۔ ان لوگوں کو آخرت پر اِیمان تو ہے نہیں، اس لئے انہوں نے دُنیا کی راحت و سکون کے تمام وسائل جمع کرلئے ہیں۔ امریکا چونکہ کافروں کی جنت ہے،(۱) اس لئے ہمارے بھائیوں کو آخرت والی جنت کی اتنی رغبت و کشش نہیں جتنی امریکا کی شہریت مل جانے کی ہے۔ اگر کسی کو ’’گرین کارڈ‘‘ مل جائے تو ایسا خوش ہوتا ہے جیسے میدانِ محشر میں کسی کو جنت کا ٹکٹ مل جائے۔

ایک مسلمان کا مطمح نظر تو آخرت ہونی چاہئے، اور یہ کہ دُنیا کی دو روزہ زندگی تو جیسے کیسے تنگی و ترشی کے ساتھ گزر ہی جائے گی، لیکن ہماری آخرت برباد نہیں ہونی چاہئے۔ مگر ہمارے بھائیوں پر آج دُنیا طلبی، زیادہ سے زیادہ کمانے اور دُنیا کی آرائش و آسائش کی ہوس اتنی غالب ہوگئی ہے کہ آخرت کا تصوّر ہی مٹ گیا اور قبر و حشر کا عقیدہ گویا ختم ہو رہا ہے۔ اس لئے کسی کو جائز و ناجائز کی پروا ہی نہیں۔ بہرحال کسبِ معاش کے لئے یا علوم و فنون حاصل کرنے کے لئے غیرملک جانے سے ہماری شریعت منع نہیں کرتی۔ البتہ یہ تاکید ضرور کرتی ہے کہ تمہارے دِین کا نقصان نہیں ہونا چاہئے، اور تمہاری آخرت برباد نہیں ہونی چاہئے۔(۲)

امریکا اور مغربی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ کے بہت سے نیک بندے آباد ہیں، جن کی نیکی و پارسائی پر رشک آتا ہے۔ جو لوگ امریکا جائیں یا کسی اور ملک میں جائیں ان کو لازم ہے کہ اپنے دِین کی حفاظت کا اہتمام کریں اور دُنیا کمانے کے چکر میں اس قدر غرق نہ ہوجائیں کہ دُنیا سے خالی ہاتھ جائیں اور دِین و ایمان کی دولت سے محروم ہوجائیں۔ ان حضرات کو مندرجہ ذیل اُمور کا اہتمام کرنا چاہئے:

۱:۔ اپنے دِینی فرائض سے غافل نہ ہوں، حتی الوسع نماز باجماعت کا اہتمام کریں اور چوبیس گھنٹے میں اپنے وقت کا ایک حصہ قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و تسبیح اور دِینی کتابوں کے مطالعے کے لئے مخصوص رکھیں۔ اور ان چیزوں کی ایسی پابندی کریں جس طرح غذا اور دوا کا اہتمام کیا جاتا ہے، غذا و دوا اگر انسانی بدن کو زندہ و توانا رکھنے کے لئے ضروری ہے، تو یہ چیزیں رُوح کی غذا ہیں، ان کے بغیر رُوح توانا نہیں رہ سکتی۔

۲:۔ کفار اور لادِین لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے گریز کریں اور کفار کو جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہیں، ان کو ایسا سمجھیں جیسے اس قیدی کو، جس کے لئے سزائے موت کا حکم ہوچکا ہے، تمام آسائشیں مہیا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ الغرض! کفار کی نعمتوں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھیں، لجاجت و حرص کی نظر سے نہ دیکھیں، اور ان چیزوں پر رال نہ ٹپکائیں۔(۳) کفار و فجار کی نقالی سے پرہیز کریں، کیونکہ ملعون اور مبغوض لوگوں کی نقالی بھی آدمی کو انہی کے زُمرے میں شامل کرادیتی ہے۔(۴)

۳:۔ ان ممالک میں حرام و حلال کا تصوّر بہت کمزور ہے، جبکہ ایک مسلمان کے لئے ہر ہر قدم پر یہ دیکھنا لازم ہے کہ یہ چیز حلال ہے یا حرام؟ جائز ہے یا ناجائز؟ اس لئے ان بھائیوں سے التماس ہے کہ اپنے دِین کے حلال و حرام کو کسی لمحہ فراموش نہ کریں، اور اس بات کا یقین رکھیں کہ ہمارے دِین نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے درحقیقت وہ زہر ہے، جس کے کھانے سے آدمی ہلاک ہوجاتا ہے، اگر ہمیں کسی کھانے میں ملا ہوا زہر نظر نہ آئے تو کسی ایسے شخص کی بات پر اعتماد کرتے ہیں جو لائقِ اعتماد اور سچا ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لائقِ اعتماد اور سچا ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقائق سے باذنِ اللہ واقف ہونا ایسی حقیقت ہے جو ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے، پس جن چیزوں کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام اور ناجائز بتایا ہے ان سے اسی طرح پرہیز کرنا لازم ہے،(۵) جس طرح زہر سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

۴:۔ آدمی، آدمی کو دیکھ کر بنتا ہے یا بگڑتا ہے، ان مغربی اور امریکی معاشروں میں انسان کے بگاڑ کا سامان تو قدم قدم پر ہے، لیکن انسان کی اصلاح و فلاح کا چرچا بہت کم ہے، اس لئے ان ممالک میں رہنے والے مسلمان بھائیوں کو لازم ہے کہ اپنے علاقے اور حلقے میں اچھے اور نیک لوگوں کو تلاش کرکے کچھ وقت ان کے ساتھ گزارنے کا اِلتزام کریں۔ اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں دعوت وتبلیغ کا کام ہے، جو حضرات اس کام میں جڑے ہوئے ہوں ان کے ساتھ کچھ وقت ضرور لگائیں۔ حق تعالیٰ شانہ ان تمام بھائیوں کے دِین و ایمان کی حفاظت فرمائیں۔

۵:۔ ان بھائیوں سے ایک گزارش یہ ہے کہ دِین کے مسائل ہر شخص سے دریافت نہ کریں، کیونکہ بعض مسائل بہت نازک ہیں، اس لئے کسی محقق عالم سے مسائل پوچھا کریں۔ اگر ان ممالک میں کوئی لائقِ اعتماد عالم موجود ہیں تو ٹھیک، ورنہ اب تو دُنیا سمٹ کر ایک محلہ کی شکل اختیار کرگئی ہے، پاکستان کے محقق اہلِ علم سے ٹیلیفون پر مسائل دریافت کرسکتے ہیں یا ڈاک کے ذریعے مسائل کا جواب معلوم کرسکتے ہیں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الدنیا سجن المؤمن وجنّۃ الکافر۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۹، کتاب الرقاق، الفصل الأوّل)۔
  2. (۲) عن عمرو بن عوف قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فواللہ لَا الفقر أخشٰی علیکم ولٰـکن أخشٰی علیکم أن تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علٰی من کان قبلکم، فتنافسوھا کما تنافسوہا وتھلککم کما أھلکتھم۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۴۰)۔
  3. (۳) عن سھل بن سعد قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضۃ ما سقٰی کافرًا منھا شربۃ۔ رواہ أحمد۔ (مشکٰوۃ ص:۴۴۱، کتاب الرقاق، الفصل الأوّل)۔
  4. (۴) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فھو منھم۔ رواہ أحمد۔ (مشکٰوۃ ص:۳۷۵)۔
  5. (۵) عن عبداللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن أحدکم حتّٰی یکون ھواہ تبعًا لما جئت بہ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ، الفصل الثانی)۔