اخلاقیات
گھرمیںعورتوںکےسامنےاِستنجاخشککرنا
سوال:۔
مجھے یہ کہتے ہوئے آتی تو شرم ہے، مگر مسئلہ اہم ہے۔ میرے ایک دوست کے والد اور چچا وغیرہ کی عادت ہے کہ جب وہ گھر میں بھی ہوں تو پیشاب کے بعد گھر میں ہی ازاربند سنبھالے وٹوانی (پیشاب کو ڈھیلے سے خشک کرنا) کرتے ہیں، میرے دوست کو تو جو شرم آتی ہے میں خود شرمندہ ہوجاتا ہوں کہ ان کے گھر میں ان کی بیٹیاں، بیٹے سب ہوتے ہیں اور انہیں ذرا اِحساس نہیں ہوتا ہے کہ یہ کتنی بُری بات ہے۔ ایک بار میری بہن نے میرے دوست کی بہن سے کہا، تو اس نے کہا: میں کیا کہہ سکتی ہوں، ابا کو خود سوچنا چاہئے۔ آپ براہ مہربانی یہ بتائیں کہ کیا اسلام میں اس طرح وٹوانی کو منع نہیں کیا گیا؟ اہم بات یہ ہے کہ میرے دوست کے والد پانچوں وقت کے نمازی ہیں، میرا دوست کہتا ہے کہ: میرے والد کیا، پنجاب کے بیشتر دیہات کے نہایت پرہیزگار لوگ اسی طرح کرتے ہیں۔
جواب:۔
یہ عمل حیا کے خلاف ہے، ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔(۱) اِستنجا خشک کرنے کے لئے اس کی ضرورت ہو تو اِستنجاخانے میں اس سے فارغ ہولیا کریں۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الْإیمان بضع وسبعون شعبۃ، والحیاء شعبۃ من الْإیمان۔ (مسلم ج:۱ ص:۴۷)۔ أیضًا: عن جابر قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا أراد البراز إنطلق حتّٰی لَا یراہ أحد۔ رواہ أبوداوٗد۔ وعن أنس قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا أراد الحاجۃ لم یرفع ثوبہ حتّٰی یدنو من الأرض۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۲)۔ وفی المرقاۃ: لم یرفع ثوبہ حتّٰی یدنو أی یقرب من الأرض احترازًا عن کشف العورۃ بغیر ضرورۃ وھٰذا من أدب قضاء الحاجۃ، قال الطیبی یستوی فیہ الصحراء والبنیان۔ (مرقاۃ شرح المشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۸۹، الفصل الثانی، باب آداب الخلاء)۔

