اخلاقیات
لوگوںکیایذاکاباعثبنناشرعاًجائزنہیں
سوال:۔
آپ نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ جمعہ ایڈیشن ۳؍دسمبر ۱۹۸۲ء کی اشاعت میں کالم ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ میں ایک صاحب کے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ مکان کرائے پر دینا اور لینا جائز ہے۔ یہ تو صحیح ہے، لیکن ایسی صورت میں کہ ایک شخص جسے لوگ دِین دار مسلمان سمجھتے ہوں، نیز وہ خود بھی دِین کا درس اور اِسلام کی تعلیم دینے کا دعوے دار ہو، کسی رہائشی علاقے میں مکان خرید کر ایسے کاروبار یا کارخانے کے لئے جو اس رہائشی علاقے کے لحاظ سے نہ تو قانونی، نہ ہی اخلاقی طور پر جائز و مناسب ہو، زیادہ کرائے کے لالچ پر دے، جو وہاں کے رہنے والوں کے لئے اذیت اور پریشانی کا باعث ہو، یہاں تک کہ لوگوں کو گٹر کا پانی پینا اور اِستعمال کرنا پڑے (مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت سے گٹر اور پانی کی پائپ لائنیں ٹوٹ پھوٹ جانے کی وجہ سے)، نیز ایسی ایذارسانی کی بنیاد کو ختم کرانے کے لئے لوگوں کی برادرانہ گزارشات کو مختلف حیلے بہانوں سے ٹالتا رہے اور اپنی بات پر قائم رہنے کے لئے مختلف تأویلوں سے جھوٹ کا ارتکاب بھی کرے، اس سلسلے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ کا کیا جواب ہے؟
جواب:۔
کسی شخص کے لئے ایسے تصرفات شرعاً بھی جائز نہیں جو لوگوں کی ایذا رسانی کے موجب ہوں۔(۱)
- (۱) عن عبداللہ بن عمرو عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہٖ، والمھاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ۔ (بخاری شریف ج:۱ ص:۶، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ)۔

