بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

کیا‌قبلے‌کی‌طرف‌پاؤں‌کرنے‌والے‌کو‌قتل‌کرنا‌واجب‌ہے؟

سوال:۔

بزرگوں سے سنا ہے کہ قبلہ شریف کی طرف جو شخص ٹانگیں پھیلاکر سورہا ہو اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ کیا جو شخص قبلہ شریف کی طرف منہ کرکے پیشاب کرے اور پیشاب کرے بھی کھڑا ہوکر تو برائے مہربانی بتائیں کہ کیا اس طرف پیشاب کرنے والے کا قتل بھی واجب ہے؟

جواب:۔

قبلہ شریف کی طرف پاؤں پھیلانا بے ادبی ہے، اور اس طرف پیشاب کرنا گناہ ہے۔(۱) لیکن اس گناہ پر قتل کرنا جائز نہیں،(۲) جبکہ وہ شخص مسلمان ہو، البتہ اگر ایسے افعال کعبہ شریف کی توہین کی نیت سے کرتا ہے تو یہ کفر ہے۔(۳)

  1. (۱) ویکرہ تحریمًا إستقبال القبلۃ بالفرج ولو فی الخلاء، بالمدّ بیت التغوط، وکذا استدبارھا وکما کرہ لبالغ إمساک صبی یبول نحوھا وکما کرہ مدّ رجلیہ فی نوم أو غیرہ إلیھا أی عمدًا لأنہ اسائۃ أدب۔ (درمختار علی الشامی ج:۱ ص:۶۵۵، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  2. (۲) ﵟ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ ﵞ سورة الإسراء ٣٣
  3. (۳) وفی تتمۃ الفتاویٰ من استخفّ بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوہ مما یعظم فی الشرع کفر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۵)۔