بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اخلاقیات

خانۂ‌کعبہ‌کی‌طرف‌پاؤں‌کرکے‌سونا

سوال:۔

خانۂ کعبہ کی جانب پیر پھیلاکر سونا سوء ادب ہے، کیا اسی طرح بیت المقدس کی طرف پیر پھیلاکر سونا گستاخی ہے، کیا بیت المقدس کی طرف بھی پیر پھیلاکر سونا منع ہے؟

جواب:۔

قبلے کی طرف پاؤں پھیلانا مکروہ ہے،(۱) لیکن بیت المقدس کی طرف پاؤں پھیلانے کے مکروہ ہونے کی مجھے تصریح نہیں ملی، البتہ اِبراہیم نخعیؒ اور دیگر بعض اکابر کے نزدیک بیت المقدس کا بھی وہی ادب ہے جو قبلے کا ہے۔

  1. (۱) ویکرہ تحریمًا إستقبال القبلۃ بالفرج ولو فی الخلاء ۔۔۔ وکما کرہ مد رجلیہ فی نوم أو غیرہ إلیھا أی عمدًا لأنہ إسائۃ أدب۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۶۵۵، أیضًا: البحر الرائق ج:۲ ص:۳۶)۔